The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے جتنے ازخود نوٹس لئے وہ بنیادی حقوق سے منسلک تھے، چیف جسٹس

سکھر :چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے جتنے ازخود نوٹس لئے وہ بنیادی حقوق سے منسلک تھے، کل یا پرسوں منچھرجھیل کا دورہ کروں گا، سندھ میں اسپتالوں کی صورتحال بہت خراب ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سندھ کے اسپتالوں کی حالت زار کا جائزہ لینے سکھر کے سول اسپتال پہنچے, انہوں نے سکھر کے سول اسپتال کے وارڈز کا دورہ کیا اور سہولیات کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کیلئے ایسے اسپتال کسی صورت قبول نہیں۔

سول اسپتال کے آئی سی یو میں گندگی کی حالت دیکھ کر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہاں مریضوں کو کسی قسم بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں ہیں، اسپتال میں وینٹی لیٹر نہیں ہے تو ایمرجنسی میں کیا کیا جاتا ہے؟ انسانوں کیلئے ایسے اسپتال کسی صورت قبول نہیں ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر انور پالاری سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال انتظامات سے مطمئن نہیں ہوں، آپ کی مجبوریاں جانتا ہوں، فنڈز کی کمی کے باعث مسائل لازمی ہوں گے، جامع رپورٹ تیار کرکے مجھے ارسال کریں تاکہ ذمہ داروں کا محاسبہ کیا جاسکے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حیرت ہے سول اسپتال میں کوئی نیورو سرجن اور وینٹی لیٹر موجود نہیں، سندھ میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، اس موقع پر انہوں نے دیگر وارڈز کا بھی معائنہ کیا اور داخل مریضوں سے ان کے مسائل معلوم کیے۔

چیف جسٹس نے مریضوں سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو دوائیں مفت مل رہی ہیں؟ جس کا مریضوں نے نفی میں جواب دیا، مریضوں کی جانب سے سول اسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کی شکایت بھی کی گئی۔

علاوہ ازیں چیف جسٹس کے دورے کے دوران ایس آرپی کے برطرف اہلکاروں نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا، چیف جسٹس نے احتجاج کرنیوالے مظاہرین کے مطالبات غور سے سنے اور انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریا کے کنارے ہونے کے باوجود سکھر کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک نہیں مل رہا، صاف پانی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کئےجائیں۔

بعد ازاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جتنے ازخود نوٹس لئے وہ بنیادی حقوق سے منسلک تھے اور یہ مفاد عامہ کیلئے ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم کسی کو شکار بنا رہے ہیں، اداروں میں خامیاں پائی گئیں تو سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑی۔

عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، اسپتالوں سے آنے والی متعدد شکایات بنیادی حقوق سے جڑی ہیں،  سندھ میں پانی کے مسئلے کیلئے عدلیہ جدوجہد کررہی ہے، امید ہے3سے4ماہ میں مثبت اقدامات سامنے آجائیں گے۔

مزید پڑھیں: تھرپارکر میں بچوں کی اموات، چیف جسٹس نےتحقیقاتی کمیشن بنا دیا

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کل یا پرسوں منچھر جھیل کا دورہ کروں گا، سپریم کورٹ کے ذریعے منچھرجھیل کے مسائل حل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن قریب آگئے ہیں کسی طرح کا سیاسی تاثر نہیں دیناچاہتا، کہنا چا ہتا ہوں میرے ریٹرننگ افسران کی عزت کی جائے، آراوز کیخلاف غیرضروری زبان کےاستعمال سے گریز کیا جائے، سیاستدان بھی عدلیہ کی عزت کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں