The news is by your side.

Advertisement

جج کی غلطی کا خمیازہ معاشرہ بھگتتا ہے: چیف جسٹس

پشاور: چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اکیلا نظام ٹھیک نہیں کر سکتا، جج کی غلطی کا خمیازہ معاشرہ بھگتتا ہے۔ حکومت کی ترجیح عدلیہ نہیں تو میں ذمہ دار نہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جوڈیشل اکیڈمی میں تقریب سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ بار اور عدلیہ ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں۔ تنقید ہوتی ہے کہ عدلیہ فیصلے جلد اور قانون کے مطابق نہیں کرتی۔ ’میں تنہا یہ نظام درست نہیں کر سکتا، سپورٹ کی ضرورت ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ مثالی ہونا چاہیئے کہ اعلیٰ عدالت سے بھی تبدیل نہ ہو۔ جج کی غلطی کا خمیازہ معاشرہ بھگتتا ہے۔ ایک غلط فیصلے کے نتائج دور تک جاتے ہیں۔ ’جج خود سے عہد کریں کہ ان کو قانون سیکھنا ہے۔ 5 منٹ میں بتا سکتا ہوں ایک سول مقدمے کو کیسے نمٹانا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں جوش و جذبے کے ساتھ انصاف مہیا کرنا ہوگا۔ اللہ نے انصاف دینے کے لیے آپ کو روزی دی اور مقام دیا۔ ’اگر صحیح انصاف کیا تو آپ کی نظریں کبھی نہیں جھکیں گی‘۔

خیال رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار پشاور میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عوامی مسائل سے متعلق کئی مقدمات کی سماعت کی۔

اس سے قبل وہ ججز اور وکلا سے ملاقات کے لیے پشاور ہائیکورٹ بھی پہنچے تھے۔ ہائی کورٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انصاف انصاف ہے، تول کر دیا جانا چاہیئے۔ انصاف کرنا ججز کی ذمہ داری ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں