The news is by your side.

Advertisement

انصاف کی فراہمی عدلیہ اور بار کی مشترکہ ذمہ داری ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انورظہیر جمالی نے کہا ہے کہ بنچ اوربار انصاف کی فراہمی کے اکٹھے جزو ہیں، انصاف کی فراہمی عدلیہ اوربارکی یکساں ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس انورر ظہیر نے ان خیالات کا اظہاراسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلام آباد بارکونسل کے زیر اہتمام نئے وکلاءکو انرولمنٹ سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب میں فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ریاض احمد خان، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ محمد انور خان کاسی، جسٹس نورالحق این قریشی، جسٹس شوکت عزیزصدیقی، جسٹس اطہرمن اللہ، جسٹس عامرفاروق، پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین اعظم نذیرتارڑ، اسلام آباد بارکونسل کے چیئرمین اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرﺅف، وائس چیئرمین اسلام آباد بارکونسل شعیب شاہین شریک تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ہونیوالی بعض کوتاہیوں کا خمیازہ عدلیہ اور بار دونوں کو بھگتنا پڑا، غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے، خود احتسابی کے لئے بنچ اور بار دونوں کو کردار ادا کرنا چاہئے اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

سپریم کورٹ میں دائر کی جانیوالی درخواستوں پر موثر کارروائی ہو گی، 90 فیصد درخواستیں زائد المعیاد ہونے کے باعث غیر موثر ہو چکی ہیں۔

سپریم کورٹ میں وکالت کے لائسنس کے لئے ہائی کورٹ کی دس سالہ پریکٹس کی شرط کو سات سال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے جوڈیشل کمپلیکس میں اسلام آباد بارکونسل کے دفتر کا افتتاح کیا۔

تقریب اختتامی مراحل میں مہمان خصوصی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے نئے وکلاءمیں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے اور انہیں مبارکباد پیش کی، تقریب سےاسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں