The news is by your side.

Advertisement

وکلاء دلائل کے بجائے لاتوں اور مکوں سے اپنا کیس پیش کرتے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ آج کے وکلاء دلائل کے بجائے لاتوں اور مکوں سے اپنا کیس پیش کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں حقائق تخلیق کیے جارہے ہیں، ججوں کے فیصلوں پر ایسے لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتا ہی نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جج محنت کرکے ایمان داری سے فیصلہ دیتے ہیں شام میں تبصرہ شروع ہوجاتے ہیں، 99 فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جنہیں قانون کا پتا ہی نہیں ہوتا ہے۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا، یہ ہمارا ملک ہے انہی حالات میں محنت سے کام کرنا ہوگا، اسی سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کیں۔

مزید پڑھیں: جب ضروری ہوگا تب ہی عدالت سو موٹو نوٹس لے گی: چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ مثبت سوچ اور محنت سے کام کریں گے تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، ججز کو کسی صورت میں مایوس نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں ںے نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بھی تعلیمی ادارے ہیں جہاں سیکنڈ ایئر کا طالب علم فرسٹ ایئر کے طالب علم کو پڑھاتا ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق اسی سسٹم میں رہتے ہوئے ماڈل کورٹس نے 4 ماہ میں 35 ہزار مقدمات نمٹائے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں