The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کے الیکٹرک سے 20 مئی تک لوڈشیڈنگ کا شیڈول طلب کرلیا

کراچی : بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کے الیکٹرک سے 20 مئی تک لوڈ شیڈنگ کا شیڈول طلب کرلیا اور سی ای او کے الیکٹرک کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کوئی پرابلم ہے تو کیا شہریوں کو جہنم میں ڈال دیں؟سترہ مئی سے رمضان المبارک آرہا ہے، کراچی والے توشدید گرمی میں مارے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں سپریم کورٹ رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں کراچی اور حیدرآباد میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، کے الیکٹرک سی ای او طیب ترین عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے آپ کراچی کے شہریوں کو بجلی نہیں دے رہے، کیا شہریوں کو آپ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں، کیا کوئی پرابلم ہے، کوئی پرابلم ہے تو کیا شہریوں کو جہنم میں ڈال دیں؟

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ روز میڈیا پر دیکھ رہا ہوں, شہری بلبلا رہا ہے، خرابی آگئی تو بیک اپ ہونا چاہیے۔

سی ای اوکےالیکٹرک نے بتایا کہ 18 یونٹس میں سے 2 میں مسئلہ ہوا، خرابی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دو ہفتے میں مطلوبہ پرزے باہر سے آجائیں گے، 3200 میگا واٹ ضرورت ہے جبکہ 2650 بنا رہے ہیں، اوسط طلب 2900 میگا واٹ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مئی سے رمضان المبارک آرہا ہے، کراچی کے لوگ رمضان کیا کریں گے، کراچی والے توشدید گرمی میں مارے جائیں گے، یہ تو مجرمانہ غفلت ہے، کیوں نہ آپ کے خلاف کارروائی کی جائے؟

چیف جسٹس کا استفسار کیا کتنے گھنٹے لوڈ شیڈنگ کر رہے ہیں؟ طیب ترین نے کہا کہ کچھ علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا شیڈول ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے بیس مئی تک لوڈشیڈنگ کا شیڈول طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا لوڈ شیڈنگ بھی اپنی مرضی سے کرتے ہیں؟ لوڈشیڈنگ کی اجازت کس اتھارٹی سے لیتے ہیں؟ تمام تفصیل بتائیں۔

اگر لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو آپ کی گھر پر بارہ گھنٹے بجلی بند کردیں گے اور جنریٹر چلانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے


دوسری جانب حیدرآباد میں لوڈ شیڈنگ پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سربراہ حیسکو کی سرزنش کی ،جس پر سربراہ حیسکو نے عدالت کو بتایا کہ کنڈوں اور بجلی چوری کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ ایسے پرزے نہ منگوائیں جس کی ضرورت نہیں، پی آئی اے نے ایسے پرزے منگوائے، جن کے طیارے ان کے پاس نہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو آپ کے گھر پر 12گھنٹے بجلی بند کردیں گے ، بجلی بند کرنے کے بعد جنریٹر چلانے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے بجلی چوری کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا جامع پلان بنا کر دیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں