The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق اورآئین کی محافظ ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار

اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق اور آئین کی محافظ ہے، اگر ریاست کی ایگزیکٹو اتھارٹی کی جانب سے بھی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی تو عدالتی کارروائی کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی بھی عوام کےحقوق کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا، عدلیہ آئین کی محافظ ہے ہم اپنے حلف سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔

آئین سازی کے عمل کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ بھی ہمارا اولین فریضہ ہے، کسی کو انسانی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس متفقہ آئین موجود ہے، قرآن پاک کے بعد آئین سب سے مقدس ہے، قانون کی حکمرانی سے معاشرے کامیابیاں حاصل کرتے ہیں، آئین کہتا ہے کہ ملک منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی چلایا جائے گا۔

جسٹس ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ جب میں سیکریٹری قانون تھا تو دیکھا کہ کئی قوانین متصادم اور بےکار ہیں، وکلاء برادری نے اس پر غور کرکے اپنی سفارشات لاء کمیشن کو دیں تاکہ ایسے قوانین قانون کی کتابوں سے نکالے جاسکیں، قراردادیں تو منظور ہوجاتی ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بابا رحمتے لوگوں کے تنازعات حل کرتا ہے، لیکن بابارحمتے کو فیصلے پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جاتا، کہا جاتا ہے کہ عدالت کے کئی فیصلے آپس میں متضاد ہیں، متضاد فیصلوں سے ماتحت عدلیہ کومشکلات پیش آتی ہیں، وکلاء ایسے فیصلوں کی نشاندہی کریں تاکہ مسئلے کا حل ہوسکے۔

100کے کارڈ پر 40 روپے کٹوتی، چیف جسٹس کا ازخود نوٹس، جواب طلب

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اے ڈی آر سسٹم میں عدالت پر بوجھ نہیں پڑے گا، آئندہ ہفتے7رکنی لارجربنچ فوجداری قانون سےمتعلق سماعت کرےگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیاپر شیئر کریں۔  

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں