The news is by your side.

Advertisement

’واٹر بورڈ صارفین کو پانی کیوں نہیں دیتا، ختم کریں ایسا ادارہ‘

کراچی: واٹر بورڈ صارفین کو پانی کیوں نہیں دیتا، ختم کریں ایسا ادارہ، چیف جسٹس نے ایم ڈی کو جھاڑ پلاتے ہوئے کے فور منصوبے کے سلسلے میں چیئرمین واپڈا کو عدالت طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کنٹونمنٹ علاقوں کو پانی کی فراہمی کے کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی خوب سرزنش کی، اور صارفین کو پانی فراہم نہ کرنے پر ادارے کے وجود پر سوال اٹھایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا جب ٹینکر میں پانی آتا ہے تو گھروں کو کیوں نہیں ملتا؟ واٹر بورڈ صارفین کو پانی کیوں نہیں دیتا ؟ ہاکس بے پر سوسائٹیز بن رہی ہیں، اور سارا پانی وہاں ڈائیورٹ ہو رہا ہے، کراچی والے کیا کریں گے؟ کراچی کو پانی کیسے ملے گا؟

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں سخت لہجے میں کہا سب پانی چوری میں ملوث ہیں، افسران، سیاست دانوں اور با اثر لوگوں کو پانی مل جاتا ہے لیکن عام آدمی کو نہیں ملتا۔

انھوں نے کہا لیاری ایکسپریس وے کے نیچے سے پانی نکالا جا رہا ہے، یہ تو پل گر جائے گا کسی روز، لیاری والے بیچارے کالا پانی پینے پر مجبور ہیں، آپ پانی نہیں دیتے تو کیوں بیٹھے ہیں؟

چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا اس ادارے کے رہنے کا کیا مقصد ہے؟ ختم کریں ایسا ادارہ۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا واٹر بورڈ تحلیل ہونا چاہیے، پمپنگ اسٹیشنز پر نجی لوگ رکھ لیں، اس طرح کئی ارب روپے تو بچ جائیں گے۔

ایم ڈی واٹر بورڈ نے فور منصوبے کی آڑ لیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ کے فور منصوبے سے کراچی کو وافر مقدار میں پانی ملے گا، عدالت نے استفسار کیا کہ منصوبہ طویل عرصہ سے التوا کا شکار ہے یہ کب مکمل ہوگا؟ ایم ڈی نے بتایا کہ اب کے فور وفاق کے سپرد ہے اس لیے وفاق ہی بہتر بتا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 16 جون کو چیئرمین واپڈا کو طلب کر لیا، سپریم کورٹ میں کے فور منصوبے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں