The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دے دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے کرپشن کے مقدمات جلد نمٹانے اور نیب ریفرنسز کے فیصلوں کیلئے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں لاکھڑا کول مائننگ پاور پلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، نیب کی جانب سے ریفرنس کا فیصلہ نہ ہونے پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کا حکم جاری کرتے ہوئے حکم نامے میں کہا ہے کہ ایک ہفتے میں تعیناتی نہ ہوئی تو سخت ایکشن لیا جائیگا۔

تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ 5احتساب عدالتیں غیرفعال ہونے کا کوئی جواب نہیں مل سکا، احتساب عدالتیں غیرفعال رکھنے کی وجہ سمجھ نہیں آرہی، کرپشن کے مقدمات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں، کم سے کم120 نئی احتساب عدالتیں قائم کرکے مقدمات نمٹائے جائیں، نیب کےمطابق سال2000کے مقدمات بھی فیصلے کے منتظر ہیں۔

سپریم کورٹ کے تحریری حکم میں چیئرمین نیب سےجواب طلب کیا گیا ہے کہ زیرالتوا مقدمات نمٹانے کیلئے کیاحکمت عملی بنائی گئی، حکومت اور نیب نے اقدامات نہ کیے تو نیب قانون غیر مؤثر ہوجائے گا، 20، 20 سال سے نیب کے ریفرنسز زیر التواء ہیں، فیصلے کیوں نہیں ہورہے۔

کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت نے قرار دیا کہ سیکرٹری قانون متعلقہ حکام سے ہدایت لے کر نئی عدالتیں قائم کریں، 120 نئی عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کی جائے، کرپشن کے مقدمات اور زیر التوا ریفرنسز کا تین ماہ میں فیصلہ کیا جائے۔

نیب کا ادارہ نہیں چل رہا، کیوں نہ نیب عدالتیں بند کردیں اور نیب قانون کو غیرآئینی قرار دے دیں، ریفرنسز کا فیصلہ تو تیس دن میں ہونا چاہیے، لگتا ہے 1226 ریفرنسز کے فیصلے ہونے میں ایک صدی لگ جائے گی۔

سپریم کورٹ نے پانچ احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں تعیناتی نہ ہوئی تو سخت ایکشن لیا جائیگا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل، پراسیکیوٹر جنرل، سیکرٹری قانون کو پیش ہونے کا حکم دیا جبکہ چیئرمین نیب سے بھی زیر التواء ریفرنسز کو جلد نمٹانے سے متعلق تجاویز طلب کرلیں۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں