The news is by your side.

Advertisement

ستر سال گذر گئے پرآج بھی اردو ذبان کا نفاذ نہیں ہوسکا،چیف جسٹس پاکستان

کراچی: سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اردو ہماری قومی ذبان ہے جس کا نفاذ لازمی ہو گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی آج کراچی میں جوڈیشل اکیڈمی کے قیام کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں مدعو تھے۔جہاں انہوں نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی ضرورت،اردو ذباں کے نفاذ اورانسانی حقوق سے متعلق سیرحاصل گفتگوکی۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہناتھا کہ ملک کی آبادی 19کروڑ سے زائد تجاوز کرچکی ہے او ملک کا بڑا المیہ یہ کہ ہم اہم بنیادی معاملات پرکوئی متفقہ لائحہ عمل تیارنہیں کرسکے ہیں۔

انہوں نے مذید کہا کہ ملک میں کوئی طویل مدتی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔جس سے مسائل گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں.ملک میں صرف الزام درازی کا چلن عام ہے

قومی ذبان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا بھر میں قانونی تعلیم قومی ذبان میں دی جاتی ہے مگر سندھ میں تمام عدالتی کارروائیاں انگریزی ذبان میں کی جاتی ہے۔ہم ابھی بھی اپنی ذبان سے ناآشنا ہیں.اردو جو ہماری قومی ذباں ہے اور ہم اسے رائج کرنے میں ناکام رہےہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ دوسرے ممالک کے عدالتی نظام سے استفادہ کرنا بری بات نہیں۔جس طرح ملک کی اشرافیہ اور سیاستداں علاج کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اسی طرح ہم مخصوص مسائل کے حل کیلیے دوسرے ممالک کے عدالتی نظام سے استفادہ لیتے ہیں۔

جوڈیشل اکیڈمیز کی افادیت بتاتے ہوئے انہوں نے نتایا کہ ملک بھر میں جوڈیشل اکیڈمیز مکمل فعال ہیں جوڈیشل اکیڈمیز میں ججزکی تربیت کی جاتی ہے تاکہ انکے فیصلوں میں بہتری آئے قانونی تعلیم کی بہتری کیلیےبارکونسل سمیت وکلااورججزکومثبت کرداراداکرنا ہوگا

چیف جسٹس نے وضاحت کی انسانی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔بنیادی انسانی حقوق کی واضح تفصیل آئین پاکستان میں موجود ہے۔ضرروت عمل درآمد کرانے کی ہے۔

انہوں نے مذید کہا کہ عدلیہ کی آزادی کیلیےسب سےاہم چیز یہ ہےکہ ہر شخص اپنی ذمے داری کو نبھائے،مقننہ انتظامیہ اورعدلیہ کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

اس سے قبل تقریب سے چیف جسٹس سندھ سجاد علی شاہ نے بھی خطاب کیا

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں