The news is by your side.

Advertisement

اسحٰق ڈار کے حکم پر پارک اکھاڑ کر سڑک بنا دی گئی، چیف جسٹس برہم

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے زبانی احکامات پر ان کے گھر کے باہر سڑک کھلی کرنے کے لیے پارک کی اراضی استعمال کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کی زبان جیسے ہی ہلتی ہے آپ لوگ غلام بن جاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سابق وزیر خزانہ اور نو منتخب سینیٹر اسحٰق ڈار کی رہائش گاہ کے لیے پارک اکھاڑ کر سڑک بنانے کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ڈی جی ایل ڈی اے زاہد اختر سے استفسار کیا کہ کس کے کہنے پر پارک کو اکھاڑ کر سڑک بنائی گئی؟ جس پر ڈی جی ایل ڈی اے نے بتایا کہ سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے پارکنگ کے لیے سڑک کھلی کرنے کی درخواست کی تھی۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا سابق وزیر خزانہ نے تحریری طور پر درخواست دی تھی؟ ڈی جی ایل ڈی اے نے بتایا کہ زبانی طور پر فون کر کے سڑک بنانے کے لیے کہا گیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ سیاسی لوگوں کے غلام بن کر رہ گئے ہیں، کس طرح کے افسر ہیں؟ وزیر کی زبان ہلانے پر پارک کو اکھاڑ دیا۔ ملازمت بچانے کے لیے کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ڈی ایل ڈی اے کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو اس کی سزا بھگتنی ہوگی۔ یہاں اقربا پروری نہیں چلنے دوں گا۔ آپ کے خلاف نیب کے قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیئے۔

بنچ کے استفسار پر ڈی جی ایل ڈی زاہد اختر نے بتایا کہ سڑک بنانے پر 1 کروڑ 50 لاکھ لاگت آئی۔

عدالت نے کہا کہ تمام اخراجات آپ کو اپنی جیب سے ادا کرنے ہوں گے۔

ڈی جی ایل ڈی اے زاہد اختر نے غیر مشروط معافی مانگی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ معافی کا وقت گزر گیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ تحریری طور پر بتائیں کہ پارک کتنے رقبہ پر محیط تھا، اور حلف نامے کے ساتھ تمام ریکارڈ پیش کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں