The news is by your side.

Advertisement

شوکت عزیزازخود نوٹس کیس: چیف جسٹس کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رائے طلب

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جب تک طاقتور  عدلیہ موجود ہے، ملک پر اللہ کافضل رہےگا۔

ان خیالات کا اظہار  انھوں نے ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کے خلاف ازخود نوٹس سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران کیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے یقین دلایا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہو گا.

اس موقع پر عدالت میں چیف جسٹس نے آئین کی رو سے  اپناحلف پڑھ کر سنایا. ان کا کہنا تھا کہ کسی سے نا انصافی نہیں کریں گے.

چیف جسٹس نے درخواست گزار کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے خلاف کچھ نہیں ہو رہا، طاقتور عدلیہ موجودہے، اللہ کافضل رہےگا.

چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ اگر آپ اس معاملے  پر پٹیشن دائرکرناچاہتےہیں توکر لیں، البتہ اس معاملے پر پہلے ہی نوٹس لیا جا چکا ہے.

یاد رہے کہ گذشتہ دوان راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی نے عدلیہ اور پاک فوج پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے ، ان کی جانب سے فوج پر سیاسی مقدمات کے حوالے سے عدالتی نظام میں مداخلت کے الزمات عائد کیے گئے تھے۔

بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقات عامہ نے یہ مطالبہ کیا کہ ہائی کورٹ کے جج نے ریاستی اداروں پر الزامات لگائے ہیں، سپریم کورٹ الزامات سے متعلق ضروری کارروائی کرے۔

22 جولائی 2018 کو چیف جسٹس آف پاکستان نے شوکت صدیقی کی تقریرکا نوٹس لیتے ہوئےپیمرا سے تقریر کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا.

سپریم کورٹ کا اعلامیہ

بعد ازاں سپریم کورٹ نے جج شوکت عزیز کے خلاف ازخودنوٹس سے متعلق سماعت کا اعلامیہ جاری کیا۔ 

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ سے رائےطلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ وہ الزامات کےثبوت حاصل کریں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس تمام الزامات اور ثبوت کا جائزہ لے کر عمل درآمدکرائیں گے۔

 رجسٹرار سپریم کورٹ نے رجسٹرار ہائی کورٹ کواحکامات سےآگاہ کردیا ہے، جب کہ جسٹس شوکت عزیزکےخطاب کی ٹرانسکرپٹ پہلے ہی حاصل کی جاچکی ہے۔


سپریم کورٹ، جسٹس شوکت عزیزکے الزامات پرضروری کارروائی کرے،  پاک فوج


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں