پانی کی کمی کی وجہ سے اپنی بچوں کی زندگی تلف ہوتے نہیں دیکھ سکتا: چیف جسٹس
The news is by your side.

Advertisement

پانی کی کمی کی وجہ سے اپنے بچوں کی زندگی تلف ہوتے نہیں دیکھ سکتا: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ  پانی کی کمی کی وجہ سے اپنی بچوں کی زندگی تلف ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔

ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے  دو روزہ بین الاقوامی سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر انھوں نے غیرملکی ماہرین کی سمپوزیم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا.

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمیشہ سے یہ سوچ رہی کہ عوام کے بنیادی حقوق کے لئے جدوجہد کروں، آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، آئین پڑھ کر سوچتا ہوں، عوام کو ان کے حقوق کب ملیں گے.

قائد اعظم نے خود کو فنا کر کے ہمیں پاکستان دیا، یہ پاکستان ہماری ماں ہے، کیا ہم اس سےعشق نہیں کرسکتے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ میرے بچے پانی سے محروم ہو کر زندگی سے محروم ہوجائیں، یہ مجھے گوارا نہیں، عدلیہ عوام کےبنیادی حقوق کی ضامن ہے.

انھوں نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقو ق کا تحفظ عدلیہ کا فرض ہے، پانی کی کمی کی وجہ سے اپنی بچوں کی زندگی تلف ہوتے نہیں دیکھ سکتا. ہماری نئی نسل پانی سےمحروم ہوجائےایسانہیں ہونےدیں گے.

چیف جسٹس نے کہا کہ ماضی میں کسی نے آبی ذخائر کے لئے کچھ نہیں کیا، جب معلوم تھا کہ پاکستان کے پاس وافر پانی نہیں تو اقدامات کیوں نہ کئے گئے.

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیں تحفےمیں نہیں ملا،قائد اعظم نے خود کو فنا کر کے ہمیں پاکستان دیا، یہ پاکستان ہماری ماں ہے، کیا ہم اس سےعشق نہیں کرسکتے؟

انھوں نے سوال کیا کہ اگر کسی نےاسپتالوں کے لئے کام نہیں کیا، تو کیا ہم بھی اپنی ذمے داری پوری نہیں‌ کرتے.


صوبوں میں اتفاق رائے ہی سے آبی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے: سرتاج عزیز


قوم کے بچوں نے جوپیسے مجھےدیے، وہ امانت ہے، امانت میں خیانت کرنابہت بڑا گناہ ہے، جتنےدن میں ہوں، اپنی قوم کومایوس نہیں کرسکتا.

انھوں نے کہا کہ آج ہونے والی باتیں‌ نوٹ کی جانے والی تھیں،آج جوغیرملکی مہمان یہاں آئےہیں، وہ روز روز  نہیں آسکتے.

اپنی تقریر میں انھوں نے جسٹس ہانی مسلم، جسٹس اعجاز، سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری کے تعاون اور کاوشوں‌ کو سراہا.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں