The news is by your side.

Advertisement

میرے پاس جو سفارش لے کر آئے اسے اپنا انجام یاد ہونا چاہیے: چیف جسٹس

چیف جسٹس کا مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک باد

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سفارشیوں کو تنبیہہ کی ہے کہ ان کے پاس جو شخص سفارش لے کر آئے، اسے اپنا انجام یاد ہونا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مضرِ صحت آئس کریم کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سفارشیوں کو اپنا انجام معلوم ہونا چاہیے۔

مضرِ صحت آئس کریم کا پروڈکشن یونٹ سیل کرنے کا حکم

چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران برہم ہو کر کہا ’مجھے سفارشی فون کرواتے ہو، کیسے لوگ ہیں آپ ؟‘

لاہور کی ایک نجی بیکری کمپنی کی آئس کریم میں مضرِ صحت اجزا کی موجودگی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس نے بیکری کے ذمہ داروں کو کل عدالت میں طلب کر لیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ بیکری کی مضرِ صحت اشیا کی فروخت بند کروائی جائے۔ دریں اثنا ڈی جی فوڈ پنجاب کیپٹن (ر) عثمان نے عدالت میں مضرِ صحت آئس کریم کی رپورٹ پیش کی۔

ڈی جی فوڈ اتھارٹی پنجاب نے عدالت سے کہا کہ کارروائی کرنے پر ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی گئی ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  نہرو سمیت دیگرسیاسی لیڈرمیرے قائد کےقریب بھی نہیں‘ چیف جسٹس


عدالت نے کردار کشی مہم کے معاملے پر پیمرا سے جواب طلب کر لیا، اور مضرِ صحت آئس کریم کا پروڈکشن یونٹ سیل کرنے کا حکم دے دیا۔

کرسمس مبارک

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارک باد دی۔ سپریم کورٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے پاکستان کی مسیحی برادری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں