آبیانہ رقم فی ایکڑسالانہ 1500 کی جائے توسالانہ67 ارب وصولی ہوگی‘ سپریم کورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

آبیانہ رقم فی ایکڑسالانہ 1500 کی جائے توسالانہ67 ارب وصولی ہوگی‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں آبیانہ کی رقم کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پانی کے معاملے پر ایک کمیٹی بنا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آبیانہ کی رقم کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پانی کی قیمت کے تعین کا میکانزم کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آبیانہ رقم فی ایکڑسالانہ 1500 کی جائے تو سالانہ67 ارب وصولی ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پانی کے معاملے پر ایک کمیٹی بنا رہے ہیں جس میں میں مخدوم علی خان، سلمان اسلم بٹ شامل ہوں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کو پانی کے استعمال پر2 ارب کی وصولیاں بنتی ہیں جبکہ 2 ارب کے واجبات سے وصولیاں کم ہوئی ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمارا پانی بہت ضائع ہوجاتا ہے، ہمارا نہروں کا نظام اتنا بہترنہیں ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دیکھنا یہ ہے معاملہ کیا ہے معاملہ پرکیا پالیسی بننی ہے، بیٹھ کرسفارشات تیارکرلیں گے، تمام محکمہ آبپاشی کے سیکرٹریوں کو بلا لیتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ تمام سیکرٹریزاورفریقین کی میٹنگ بلا کرقرارداد تیار کرلیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ لاء اینڈ جسٹس کمیشن معاملہ پرورکشاپ کا انعقاد کرے، ورکشاپ کے ٹی او آرز تیار کیے جائیں گے، سفارشات تیارکرکے حکومت کو دی جائیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں