The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کا ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ

اسلام آباد : چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کےاصولوں پر دوبارہ غور کا عندیہ دے دیا اور کہا ضابطہ فوجداری ضمانت قبل ازگرفتاری کی اجازت نہیں دیتا، ہر کیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں آجاتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے عام مقدمے میں ریمارکس میں کہا ضابطہ فوجداری ضمانت قبل ازگرفتاری کی اجازت نہیں دیتا، ضمانت قبل ازگرفتاری گنجائش ہدایت اللہ کیس میں نکالی گئی، کسی عزت دار کو کیس میں نہ پھنسایا جائے اس لیےگنجائش نکالی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا سوال یہ تھا کیا عدالت کو عزت دار شخص کی عزت محفوظ نہیں کرنا چاہیے۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے ضمانت قبل ازگرفتاری کے اصولوں پر دوبارہ غور کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہدایت اللہ کیس 1949میں آیا تھا جو زمانہ بدل گیاہے، ہرکیس میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں آجاتی ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے ڈکیتی کے ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کے خلاف اپیل مسترد کردی، ملزم نے ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرائی تھی، جس کے بعد ڈکیتی سے متاثرہ فریق نے ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

یاد رہے   چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف کھوسہ نے جھوٹی گواہی پر  عمر قید کی سزا  کا عندیہ دیتے ہوئے جھوٹی گواہی دینے والےپولیس رضاکار ارشدکا کیس انسداد دہشت گردی عدالت کو بھجوادیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں