The news is by your side.

Advertisement

"جب تک میری قیادت چاہےگی،وزیراعلیٰ رہوں گا”

اسلام آباد: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جب تک میری قیادت چاہےگی میں وزیراعلیٰ رہوں گا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں نوری آباد پاور پلانٹ ریفرنس کی سماعت کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے گفتگو میں سندھ اسمبلی میں جاری اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی سے متعلق کھل کر گفتگو کی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ اسمبلی میں پندرہ جون کو بجٹ پیش کیاگیا، بجٹ پیش ہونےسے قبل اپوزیشن نےشور شراباکیا، اس کےبعد تین دن کوئی مسئلہ نہیں ہوا، چوتھےدن ایک اپوزیشن پارٹی نےشور شراباکیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومتی ارکان کی تقاریر کےدوران اپوزیشن نے شورشراباکیا، ہم نے اپوزیشن اراکین کی تقاریر سکون سےسنیں، بجٹ پر احتجاج کرنے والی اپوزیشن نے بجٹ سےمتعلق کٹوتی کی ایک تحریک پیش نہ کی اور نہ ہی حکومت کےمطالبات زر پر کوئی اعتراض کیا، ساتویں دن بجٹ منظورہوگیا اس کے بعد اپوزیشن نےہنگامہ کیا۔

سندھ اسمبلی میں پیش آئے واقعے پر مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ارکان نےبدتمیزی کی اسمبلی میں گھسنےکی کوشش کی،رکن اسمبلی کا کام ہےکہ اسمبلی آئے قانون کےمطابق اپنی رائے دے، مجھے نہیں علم کہ کٹوتی تحریک دینا نہیں آتی تھی یاجان بوجھ کرنہ دی، اپوزیشن کا کیا مقصد ہےکہ ان سےہی پوچھیں؟

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھے میری قیادت نے وزیراعلیٰ بنایا ہے، جب تک میری قیادت چاہےگی میں وزیراعلیٰ رہوں گا۔

سابق صوبائی وزیر اعجاز جاکھرانی سے متعلق نیب اعلامیے پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اعجازجاکھرانی مشیرہیں ایم این اے رہ چکےہیں، نیب کی جانب سے اعجازجاکھرانی کےگھر پر چھاپےمارےجارہےہیں میرا خیال ہےکہ مہذب طریقےسے بھی یہ کام ہوسکتاتھا، چھاپےمار کرہراساں کرنا مناسب نہیں۔

وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ ہمیں کچھ شکایات ملی تھیں،اینٹی کرپشن کام کررہی تھی، مجھےکل پتاچلا کہ شکایت کو چیئرمین نیب نےانکوائری میں تبدیل کردیا،
میں کسی کیخلاف نہیں بلاتفریق احتساب ہوناچاہئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں