The news is by your side.

Advertisement

چیف سلیکٹر قومی کرکٹ ٹیم نے بھی مڈل آرڈر میں خامی کا اعتراف کرلیا

لاہور: چیف سلیکٹر پی سی بی محمد وسیم نے بھی مڈل آرڈر میں خامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگ رہا ہے کہ مڈل آرڈر پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف سلیکٹر پی سی بی محمد وسیم دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی اسکواڈ کا اعلان کیا۔

بعد ازاں میڈیا کو بتایا کہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے سب کی مشاورت ،کنڈیشنز اور ابوظہبی میں ممکنہ ورلڈکپ کو سامنے رکھتے ہوئے لڑکوں کا انتخاب کیا ہے۔

چیف سلیکٹر پی سی بی محمد وسیم نے دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لئے اعلان کردہ ٹیسٹ ٹیم کو مستحکم قرار دیا اور کہا کہ پلیئنگ الیون میں ابھی نئے لڑکوں کی جگہ نہیں بن رہی، نئے کھلاڑیوں کی نشاندہی کی ہے ان پر ہماری نظرہے، جگہ بننے سے پہلے ہر کھلاڑی ایک دم سے ٹیسٹ ٹیم میں نہیں آسکتا۔محمد وسیم نے کہا کہ  عماد وسیم نے ابوظہبی میں کافی پر فارم کیا ہے، یہ ٹور اس کے لیے بڑا اہم ہے، جب عماد وسیم کو ڈراپ کیا اس وقت حالات کچھ اور تھے اور اب حالات مختلف ہیں ، ورلڈ ٹی ٹونٹی متحدہ عرب امارات ہونے کی صورت میں عماد وسیم وہاں فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں، وہ اس ٹور میں پرفارمنس دے کر اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ورلڈکپ کے لیے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

چیف سلیکٹر پی سی بی بھی ٹیم کے مڈل آرڈر میں خامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مڈل آرڈر پرابلم ایریا ہے، ہمیں لگ رہا ہے مڈل آرڈر پر کام کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئےآصف علی اور دانش عزیز کا تجربہ کرسکتے ہیں۔

محمد وسیم نے کہا کہ شرجیل خان اور اعظم خان کے انتخاب میں فٹنس میں بہتری کے ساتھ ان کی اسکلز کو بھی مدنظر رکھا ہے، ہمیں دیکھنا ہے کہ ٹیم کی ضرورت کیا ہے، ہمیں فٹنس اور ٹیم کی ضروریات دونوں کو مدنظر رکھنا ہے ۔شرجیل خان کو ٹیم میں لیتے وقت ان کی فٹنس کے ٹارگٹس دیئے تھے ، شرجیل خان اور اعظم خان کی فٹنس میں بہتری آئی ہے اور ان کومستقبل کے لیے بھی اہداف دئیے گئے ہیں۔

 محمد وسیم کا کہنا تھا کہ کسی پر ٹیم کے دروازے بند نہیں کیے، اس وقت ہماری بولنگ بہت اچھی جارہی ہے، کوئی بھی پرفارمنس دے کر سلیکشن کا اہل ثابت کرسکتا ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ پی ایس ایل سے پہلے ٹیم کا انتخاب لاجسٹک مسائل کی مجبوری کی وجہ سے کیا، پی ایس ایل پرفارمر پر بالکل نظر ہوگی، ورلڈکپ سے پہلے اگر کمبی نیشن میں بہتری کرنا پڑی تو ان پرفارمر کو یقینی طور پر زیر غور لائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں