site
stats
سندھ

چکن گونیا یا کچھ اور؟ ماہرین تشخیص میں تاحال ناکام

کراچی : ملیر میں وبائی صورت اختیار کرنے والی پراسرار بیماری کے شہریوں پر وار تاحال جاری ہیں،محکمہ صحت اورماہرین اب تک مرض کی تشخیصں کرنے میں ناکام ہیں، سندھ گورنمنٹ اسپتال کی لیبارٹری وقت سے پہلے ہی بند کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ملیر میں پھیلنے والی پرسرار بیماری چکن گونیا ہے یا کچھ اور؟ اس مرض کی تشخیص اب تک نہیں ہو سکی۔ محکمہ صحت اورماہرین اب تک اس مرض کی تشخیصں میں ناکام رہے ہیں۔

محمکہ صحت نے مچھر اورمریضوں کے سیمپل ٹیسٹ لیباٹری کو ارسال کردیے ہیں۔ ضلع ملیر کے علا قوں سعود آباد، لانڈھی اور گڈاپ میں پراسرار بیماری سے شہریوں کے متاثر ہونے کا سلسلہ جاری ہے،دوسری جانب موجودہ حالات کی سنگینی کے باوجود سندھ گورنمنٹ اسپتال کی لیبارٹری وقت سے پہلے ہی بند کردی گئی۔

اسکول کی ایک طالبہ کواس کی والدہ رکشا میں سندھ گورنمنٹ بیبھانی اسپتال لائی، بچی کی والدہ نے الزام عائد کیا کہ بچی کو طبی امداد نہیں دی جارہی۔ سرکاری اسپتالوں میں متاثرہ افراد کو ادویات کی عدم فراہمی کا  سامنا ہے جبکہ لیب ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ سے مریض در در بھٹکنے پر مجبور ہیں۔


مزید پڑھیں: چکن گونیا وائرس: پھیلاؤ جاری لیکن محکمہ صحت کی تردید


ماہرین کے مطابق یہ بیماری مچھروں کے کاٹنے سے پیدا ہو تی ہے اور متاثرہ فرد شدید بخار اورجسم کے نا قابل برداشت درد میں مبتلاہوجاتا ہے۔

یہ پراسراربیماری فی الوقت تو کراچی کے مضافاتی علاقوں تک محدود ہے لیکن شہر کےباقی علاقوں میں بھی پھیلنے کا شدید خطرہ منڈلا رہا ہے۔

مرض کی علامات 

یہ مرض ایک خاص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے، تیز بخار ،متلی، جسم پر سرخ نشان سر اور  ہڈیوں میں شدید درد اس کی خاص علامات ہیں۔

یہ مرض جسم سے سوڈئیم اور پوٹاشیم کو کم کردیتا ہے، مریض تیز بخار اور ان علامات کی صورت میں فوری طور پر اپنے معالج سے رابطہ کریں۔

یہ ضرور پڑھیں: چکن گونیا کیا ہے؟ علامات اور علاج

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top