site
stats
سندھ

کراچی میں چکن گونیا نامی بیماری کی وبا پھیل گئی، ڈاکٹرز بھی متاثر

کراچی: مچھر کے ذریعے پھیلنے والی ایک اور بیماری چکن گونیا نے کراچی میں اپنے پنجے گاڑ لیے، کراچی کے علاقے ملیر میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت سیکڑوں افراد بیماری سے متاثر ہوگئے، اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگ گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں مچھر کے ذریعے پھیلنے والی ایک اور پراسرار بیماری نے ملیر میں وبائی شکل اختیار کر لی، مریضوں کا علاج کرنے والے 70 سے زائد ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف بھی متاثر ہوگیا، مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی یہ پراسرار بیماری متاثرہ فرد کو 104 درجہ حرارت تک تیز بخار میں مبتلا کردیتی ہے۔

بیماری کی علامات میں گھٹنوں، ہتھیلیوں اور ٹخنوں سمیت جسم کا جوڑ جوڑ دکھنے لگتا ہے، سرکاری سطح پر اس بیماری تشخیص نہیں ہو سکی تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی علامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر چکن گونیا وائرس ہو سکتا ہے۔

ملیر میں یومیہ 1700  تک کی تعداد پراسرار بیماری سے اسپتالوں میں پہنچ رہی ہے بیماری نے ملیر میں علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو بھی نہ بخشا، ملیر کھوکھرا پار، ملیر سٹی اور گڈاپ میں چکن گونیا کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، سندھ گورنمنٹ اسپتال کھوکھرا پار میں متاثرہ 18 افراد زیرعلاج ہیں جن میں اسپتال کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف بھی شامل ہیں۔

dengue

چکن گونیا سے متاثرہ افراد کی فہرست جاری کردی گئی ہے، متاثرین میں سندھ گورنمنٹ اسپتال سعود آباد کے 18 ڈاکٹرز پیرا میڈیکل اسٹاف کے 38 ملازم، 8 سینیٹری ورکرز بھی شامل ہیں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ بیماری مچھر کے کاٹنے سے پھیلتی ہے لہٰذا مچھروں سے بچنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔

ملیر میں مرض پھیلنے کے بعد ای ڈی او ہیلتھ کراچی نے سندھ گورنمنٹ اسپتال سعود آباد کا دورہ کیا جہاں بڑی تعداد میں مریض زیرعلاج ہیں۔ ڈاکٹر عبد الوحید کا کہنا ہے کہ مرض کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اس غرض سے ڈاکٹروں کی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا ہے کہ شہر میں ہنگامی بنیادوں پر صفائی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صفائی کے اقدامات نہ کیے گئے تو وبائی امراض شدت اختیار کرجائیں گے۔

اس حوالے سے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں گندگی سیوریج کی ناقص صورتحال اور کچروں کے ہزاروں ٹن ڈھیر بیماریوں کی وجہ ہوسکتی ہے۔

سیوریج کا پانی صاف نہ کرنے کے باعث مچھروں کی افزائش نسل میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے، ماہرین نے کہا ہے کہ چکن گونیا نامی بیماری اس سے پہلے پاکستان میں نہیں تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top