بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتیں، احتیاطی تدابیرجانیں -
The news is by your side.

Advertisement

بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتیں، احتیاطی تدابیرجانیں

کراچی: شہر قائد میں ایک بار پھر بچوں ، بالخصوص کم سن لڑکیوں کے اغوا کی اطلاعات گردش کررہی ہیں، ضروری ہے کہ والدین اس سلسلے میں اختیا ر کی گئی احتیاطی تدابیر جانیں اور ان پر عمل پیرا ہوں۔

ماہرین نفسیات نے اس سلسلے میں مختلف تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اس حوالے سے آگہی دینی چاہیے۔ بچپن زندگی کاخوبصورت ترین عرصہ ہوتاہے تاہم بعض بچوں یا بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے اغو ا اورجنسی زیادتی جیسے واقعات کے منفی اثرات عمر بھر انکا پیچھا نہیں چھورتے۔

رواں سال کے آغاز پر قصور میں ہونے والے اندوہ ناک واقعے کی دھمک پورے ملک میں سنی گئی ، اس واقعے نے والدین کی نیندیں اڑا دیں تھیں اور ملک میں پیدا ہونے والی ہلچل سے والدین محتاط ہوگئے تھے تو ایسے واقعات میں ملوث ملزمان بھی دبک کر بیٹھ گئے تھے، لیکن گزرتے وقت کے ساتھ جیسے ہی اس واقعے پر گرد جمی ، جرائم پیشہ افراد ایک بار پھر سرگرم ہوگئے ہیں

رواں ماں کے آغاز پر کراچی میں بہن بھائی سمیت کل تین بچوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔عبدالرحمان اور شبنم اورنگی ٹاؤن کی فرید کالونی سے لاپتہ ہوئے جبکہ بشری لائنزایریا میں اسکول جاتے ہوئے گم ہوئی تاہم مل گئی۔ کراچی کے ایک تعلیمی ادارے کے باہر سے بھی ایک بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بچوں کے اغوا اور جنسی زیادتی کے پےدرپے واقعات نے والدین کو فکرمند بنا دیا کہ وہ اپنے بچوں کوکیسے بچا سکتے ہیں؟

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ والدین پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے، بچوں کو دوست بنائیں ، ان کی خاموشی توڑیں،ان میں اعتماد پیدا کریں۔

والدین اس معاملے کی اہمیت کو سمجھیں اور بچوں کیساتھ اس موضوع پر بات کریں اور انہیں آگاہی دیں، بچوں کو انکی عمرکے مطابق انہیں زیر نگرانی رکھیں۔

– اجنبی لوگوں کیساتھ انہیں نہ بھیجیں اورانہیں اپنی حفاظت کرنے کے بارے میں بتائیں۔

– بچوں کو سکھائیں کہ کوئی غیرضروری طور پر پیار کرے یا سر کے علاوہ دیگر اعضا کو چھونے کی کوشش کرے تو اسکی بات ماننےسےسختی سےانکار کریں اور والدین کوفوری بتائیں۔

– بچے کو بتائیں آئسکریم یا کوئی اور کھانے کی چیز یا کھلونا کسی اجنبی سے نہ لے، کسی بھی قسم کے لالچ میں اجنبی کے ساتھ جانے سے صاف انکار کر دے۔

– اسکولوں میں اساتذہ بچوں کے مسائل پر نظر رکھیں،کہیں کوئی وین والا، مالی ،چوکیدار، پی ٹی ماسڑ بچوں کوتنگ تو نہیں کررہا۔

– بچے جنسی زیادتی کا شکار گھرمیں بھی ہوسکتےہیں، انہیں منع کریں کہ وہ کسی ملازم یا رشتہ دارکے کمرے میں اکیلے نہ جائیں۔

– والدین بچوں کو ٹیوشن کے وقت ایسے کمرے میں اساتذہ کیساتھ بٹھائیں جہاں سے ان پر نظر رکھ سکیں، ساتھ ہی بچوں کو اکیلا گھر سے نہ نکلنے دیں، کھیل کامیدان ہو یاٹیوشن سینٹرخود ہی لیکر آئیں اورچھوڑنےبھی خود جائیں۔

فیس بک اور سوشل میڈیا سے اٹھنے والے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیں، انٹرنیٹ پر غیراخلاقی ویب سائٹس تک بچوں کی رسائی –روکنے کے لیے مناسب اقدام کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں