پاکستان میں بڑھتا ہوا بچوں کے خلاف جنسی تشدد ایک سنگین سماجی اور قانونی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ملک میں 2025 میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے کل 3630 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال 2024 کے مقابلے میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں 8 فی صد اضافہ ہوا، اور یومیہ 9 بچے متاثر ہوئے۔
بچوں کے تحفظ پر کام کرنے والی نجی تنظیم ساحل کی رپورٹ کے مطابق 11 سے 15 سال تک کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ جب کہ 32 فی صد زیادتی کرنے والے جاننے والے/قریبی رشتہ دار تھے، 18 فی صد اجنبی، 12 فی صد کیسز میں شوہر ملوث تھے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے کل رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 53 فی صد متاثرین لڑکیاں اور 47 فی صد لڑکے اور 116 کیسز نومولود بچوں کے تھے۔ رپورٹ کے مطابق شہری اور دیہی تقسیم کے حوالے سے شہروں میں 54 فی صد اور دیہاتوں میں 46 فی صد جنسی تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔
کراچی سے کچرا اٹھانے کا بجٹ 23 ارب روپے، لیکن شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا!
دوسری طرف گزشتہ 6 برس میں جنسی تشدد کے 22 ہزار کیسز میں صرف 771 افراد کو سزائیں ہوئیں۔ جو کہ نظامِ انصاف کی کمزور عمل داری اور احتساب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک فوری انصاف، مؤثر تفتیش، بچوں کے تحفظ کے مضبوط نظام اور معاشرتی آگاہی کو یک جا نہیں کیا جاتا، ایسے جرائم کی روک تھام ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔


