The news is by your side.

Advertisement

لکی مروت میں اغوا کے بعد بچے کا قتل، لواحقین کا شدید احتجاج، انڈس ہائی وے بند، چوکی نذر آتش

لکی مروت: گنڈی خان خیل سے اغوا ہونے والے بچے کی لاش آج کھیتوں سے برآمد ہونے کے بعد بچے کے لواحقین نے گنڈی چوک پر شدید احتجاج کیا جس میں شہر کی سول سوسائٹی تنظیمیں بھی شامل ہو گئیں۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختون خوا کے ضلع لکی مروت کے علاقے گنڈی خان خیل سے ایک بچے محمد اویس کو ایک ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا، جس کی لاش آج ملی، لواحقین نے گنڈی چوک پر بچے کی لاش رکھ کر احتجاج کیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گیا۔

احتجاج کے باعث کراچی پشاور انڈس ہائی وے کئی گھنٹوں تک بند رہی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، مشتعل افراد نے پولیس چوکی اور ریسکیو 1122 پر پتھراؤ کیا اور توڑ پھوڑ کی، بعد ازاں مظاہرین نے پولیس چوکی کو نذرِ آتش کر دیا۔

آج دن بھر بچے کے اغوا اور قتل کے خلاف لواحقین کی جانب سے احتجاج جاری رہا، مظاہرین سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر نے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔

تاہم مذاکرات کی ناکامی کے بعد احتجاج دیگر علاقوں میں بھی پھیل گیا، مظاہرین نے گنڈی چوک کے بعد کرم پل روڈ بھی بلاک کر دیا، احتجاج میں شہر کی مختلف سول سوسائٹی تنظیمیں بھی شریک ہو گئیں۔

انتظامیہ اور کمیٹی ممبران نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، کمیٹی میں ایم این اے مولانا انور، انور حیات، ضلع ناظم اور دیگر مشران شامل تھے، تاہم مظاہرین نے کمیٹی کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔

بعد ازاں لواحقین کو یقین دہانی کرائی گئی کہ علاقے کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کیا جائے گا، اور واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی، بچے کا پوسٹ مارٹم ہوگا اور ملزمان جلد گرفتار کیے جائیں گے۔

دوسری طرف مظاہرین نے کمیٹی کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ ملزمان کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہےگا، ان کا مطالبہ تھا کہ مقدمے میں سیون اے ٹی اے کی دفعہ بھی شامل کی جائے۔

دریں اثنا، مشتعل افراد نے ایک بار پھر پولیس چوکی پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی، پولیس چوکی کو آگ بھی لگا دی، جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی، مظاہرین کو حراست میں لینے کے لیے پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی طلب کی گئیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں