ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

صرف ماں کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی نہیں کی جا سکتی، وفاقی آئینی عدالت

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : وفاقی آئینی عدالت نے 9 سالہ بچے کی حوالگی دادی یا پھوپھی کو دینے کی درخواست مسترد کردی اور کہا صرف ماں کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی نہیں کی جا سکتی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں 9 سالہ بچے کی حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، جسٹس حسن اظہررضوی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سماعت کی۔

عدالت نے 9 سالہ بچے کی حوالگی دادی اور پھوپھی کو دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بچے کی والدہ کے حق میں سابقہ عدالتی فیصلے برقرار رکھے۔

دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ صرف ماں کی دوسری شادی کو بنیاد بنا کر بچے کی حوالگی نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ بچے کی حوالگی مانگنے والوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ بچے کی تعلیم اور تربیت کیسی چل رہی ہے یا نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچے کی والدہ نے دوسری شادی کر لی ہے اور ماں و بچے کو والد کی جانب سے ملنے والا حصہ بھی فروخت کر دیا گیا ہے۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ کیا درخواست گزار بچے کو اس کے والد سے ملنے والا حصہ بھی واپس دلوانا چاہتے ہیں؟ عدالت نے مزید کہا کہ ماں نے غالباً گارڈین کورٹ کی اجازت سے ہی جائیداد فروخت کی ہوگی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا کر بغض اور عناد کا مظاہرہ کیا گیا، جبکہ بظاہر بچے کے مفاد سے زیادہ پراپرٹی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ تمام عدالتیں پہلے ہی بچے کی حوالگی ماں کو دینے کے فیصلے برقرار رکھ چکی ہیں اور یہ فیصلہ قانون کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ بچے کے والد کے انتقال کے بعد 9 سالہ بچے کی حوالگی والدہ کو دی گئی تھی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں