The news is by your side.

Advertisement

9 سالہ بچہ دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ

ایمسٹرڈیم : الیکٹریکل انجیئرنگ کی تعلیم کرنے والے 9 سالہ گریجویٹ کا مقصد مصنوعی اعضاء اور روبوٹکس پر تحقیق کرنا ہے تاکہ انسانی زندگی میں توسیع کی جاسکے۔

تفصیلات کے مطابق ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا 9 سالہ لارینٹ سائمنس رواں سال دسمبر میں ایندھوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرکے دنیا کا کم عمر ترین گریجویٹ بن جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم سے تعلق رکھنے والا لارینٹ سائمنس ایک باصلاحیت بچہ ہے جو صرف 9 سال کی عمر میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کرے گا۔

لارینٹ سائمنس کا کہنا ہے کہ میں مزید اعلیٰ تعلیم کےلیے امریکی ریاست کیلیفورنیا جانا چاہتا ہوں جہاں کا موسم بے حد خوبصورت ہے جبکہ اس کے والد کی خواہش ہے کہ وہ برطانیہ جاکر اعلیٰ تعیلم حاصل کرے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا دنیا کے کم عمر ترین گریجویٹ نے 8 سال کی عمر میں ہی ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرلی تھی۔ نو سالہ بچے کو یقین ہے کہ ایک وہ ضرور خلانورد یا دل کا ماہر قلب بنے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں