The news is by your side.

متعدد بھارتی ریاستوں میں اچانک اسکول جاتے بچوں کا اغوا، کتنی سچائی؟

نئی دہلی: بھارت کی متعدد ریاستوں میں بچوں کے اغوا کی افواہ تشویش ناک حد تک بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہے جس کے بعد لوگوں نے بچوں کو اسکول بھیجنا بھی بند کردیا ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارن پور کے ایک اسکول کے پرنسپل نے اپنے اسکول کے طلبا کے لیے ہدایت جاری کی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ سے آنے والے طلبا تنہا نہ آئیں، اہل خانہ میں سے کسی کے ساتھ آئیں۔

کچھ دن قبل اترا کھنڈ کی سرحد سے ملحق چھپار گاؤں میں 21 سال کے شاہ رخ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا، یہ قتل بچوں کے اغوا کی افواہ کے سبب ہوا۔ مزدوری کر کے اپنے گھر لوٹنے والے شاہ رخ کو غلط فہمی میں بچوں کا اغوا کار سمجھ کر گولی مار دی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاستوں اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ میں بچہ چوری کی افواہیں عروج پر ہیں۔ بچوں کے اغوا کے الزام میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے۔

حالات اتنے سنگین ہوگئے ہیں کہ پولیس سڑکوں پر اعلان کر کے افواہوں سے بچنے کے لیے الرٹ کر رہی ہے۔ افواہوں کے سبب مغربی اتر پردیش میں لوگوں نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا تک بند کر دیا ہے۔

جن علاقوں میں بچوں کے اغوا کی افواہیں ہیں وہاں معذور اور بھکاریوں کو شبہے کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے، بچے بھی انہیں دیکھ کر ڈر جاتے ہیں اور دوڑ کر گھر میں گھس جاتے ہیں۔

اغوا کے شبہے میں کئی افراد پر ہجوم نے تشدد بھی کیا ہے۔ ایک شہر میں بچہ چوری کی افواہ پر مقامی خاتون کو عریاں کر دیا گیا۔ سیتا پور میں 65 سالہ بزرگ خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ہردوئی میں پھیری والے نوجوان کو ہینڈ پمپ سے باندھ کر پیٹا گیا۔

صرف ایک ہفتے کے اندر اتر پردیش میں تشدد کے 30 واقعات پیش آئے۔

یہ افواہ واٹس ایپ پر گمراہ کن تصاویر، ویڈیو اور خبروں کے ذریعے پھیلائی جارہی ہے۔ کچھ ویڈیوز میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اغوا شدہ بچوں کے گردے نکال کر فروخت کیے جارہے ہیں۔

میرٹھ میں آئی جی پراوین کمار کا کہنا ہے کہ اس قسم کی افواہ 3 سال قبل بھی سامنے آئی تھی، ہم کھوجنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی بنیاد کیا ہے اور یہ افواہ کس مقصد کے تحت پھیلائی جارہی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ افواہ بچوں ہی کے ذریعے زیادہ پھیل رہی ہے کیونکہ وہی اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتے ہیں، پسماندہ علاقوں کے بالغ افراد ناخواندہ ہیں جو بچوں کی زبانی سن کر اس افواہ پر یقین کر رہے ہیں، ان میں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں