site
stats
اے آر وائی خصوصی

بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن،شہباز شریف کے کروڑوں روپے کے اشتہارات

تحریر:الفت مغل

بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے حوالے سے نیوز اسٹوری کی غرض سے میں نے لاہور کے اچھرہ بازار کی ایک سائیکل پنکچر کی دکان پر ایک چھوٹے سے بچے کو سخت گرمی میں کام کرتے دیکھا تو قدم خود بخود رک گئے ۔

اپنا تعارف کرائے بغیر میں اس دکان پر جا کر بیٹھ گیا اور اس بچے کی جانب بغور دیکھنے لگا۔ کام کے دوران بچے کی نظر مجھ پر پڑی کہ میں مسلسل اسے دیکھ رہا ہوں تو اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے بعد نظریں چرالیں اور کام میں مگن ہو گیا۔ مجھے لگا کہ جیسے بچے نے مسکراہٹ میں معاشرے سے نفرت کا ثبوت دیا ہو ۔ میں کافی دیر تک وہاں بیٹھا بچے کو کام کرتے دیکھتا رہا لیکن بچے نے دوبارہ میری طرف نہیں توجہ نہیں دی ۔

کافی دیر کے بعد وہ بچہ جب سائیکل کو پنکچر لگا کر فارغ ہوا تو اپنے نازک ہاتھوں کو دبانے لگا جیسے اس کے ہاتھ تھک گئے ہوں ۔ میں مسلسل اس بچے کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس نے اخبار اٹھایا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔میں نے بچے سے اس کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام ’’داﺅد‘‘بتایا ۔ داﺅد مجھے دیکھے جا رہا تھا اور اب میں اس سے نظر یں چرا رہا تھا۔

میں نے بچے سے سوال کیا کہ تم اسکول کیوں نہیں جاتے یہ عمر تو کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کی ہے تو داﺅد نے تلخ لہجے میں جواب دیا کہ آپ لوگ نہیں چاہتے کہ میں پڑھوں لکھوں۔ بچے کے جواب نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور میں نے بچے سے اس کے بہن بھائیوں کی تعداد دریافت کی۔ داﺅد نے کہا کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں، مجھ سے بڑی ایک بہن اور دو بھائی چھوٹے ہیں، بڑی بہن اسکول جاتی ہے،گھر کے حالات ایسے ہیں کہ امی کہہ رہیں تھیں کہ جنت کو بھی اسکول سے اٹھالیں گے،جنت میری بڑی بہن ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ پڑھے لکھے۔

میں نے داﺅد سے کہا تم اسکول کیوں نہیں جاتے تو اس کی معصوم آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہا کہ اگر میں اسکول گیا تو میرے بہن بھائی بھوکے مر جائیں گے پوچھا وہ کیسے؟ تو جواب ملا کہ میں بھی اسکول جاتا تھا، والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں جنہیں پندرہ سو سے دو ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ میں اور میرے بہن بھائی کئی بار راتوں کو بھوکے سوئے، میں نے امی سے کہاکہ میرا پڑھائی میں دل نہیں لگتا مجھے کسی کام پر لگوا دیں تو امی نے کہاکہ تم ابھی بہت چھوٹے ہو تمہیں کوئی کام نہیں دے گا تاہم میرے اصرار پر امی نے سائیکل کے پنکچر لگانے والی دکان کے مالک سے بات کی اور مجھے ساٹھ روپے روزانہ پر نوکری مل گئی۔ داﺅد نے کہا جب سے میں کام پر لگا ہوں میرے بہن بھائی کبھی بھوکے نہیں سوئے۔

داﺅد نے میری طرف دیکھتے ہوئے میرے سامنے اخبار میں شائع شدہ ایک اشتہار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اخبار میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ایک بچے کے ساتھ تصویر چھپی ہے اس میں کیا لکھا ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ جھوٹ بول کر بات کو ٹال دوں لیکن ضمیر نے گوارا نہ کیا اور میں نے داﺅد کو سچ بتانے کا فیصلہ کیا۔

داﺅد نے پھر پوچھا آپ بتا کیوں نہیں رہے اس میں کیا لکھا ہے ؟ تو میں نے داﺅد کو بتایا کہ آج دنیاآپ جیسے بچوں سے جبری مشقت کے خلاف دن منا رہی ہے اور یہ عہد کر رہی ہے کہ ان بچوں کو اسکولوں میں پڑھنے لکھنے کا موقع دیا جائے گا۔ میری بات سن کر داﺅد کی آنکھوں میں امید کی چمک سی اٹھی اور اس نے کہا کیا میں بھی اسکول جا سکوں گا۔ میں نے جواباً اثبات میں سر ہلایا اور کہا کہ یقیناً تم جیسے لاکھوں بچے ضرور اسکول جائیں گے۔

داﺅد نے استفسار کیا کہ انکل کیا یہ خبر اخبار والے مفت میں شائع کرتے ہیں تو میں نے جواب دیا کہ نہیں اس کے پیسے لیتے ہیں تو داﺅد نے پوچھا کہ اس اشتہار کے کتنے پیسے لیے ہوں گے اخبار والوں نے اور کیا یہ اشتہار صرف ایک اخبار میں شائع ہو ا ہے تو میں نے بتایا کہ نہیں یہ اشتہار آج کے تمام اخبارات میں شائع ہوا ہے اور اس پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہیں میرا جواب سن کر داﺅد اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔

میں نے داﺅد سے پوچھا کہ وہ میرا جواب سن کر یوں اٹھ کر کیوں چلا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ دن گزر جائے گا لیکن میں اور میرے جیسے لاکھوں بچے اسکول نہیں جا سکیں گے۔ میں نے کہا کہ تم مایوس کیوں ہو رہے ہو حکومت کوشش اور اقدامات کر رہی ہے، لیکن مایوسی اور نا امیدی داﺅد کے چہرے سے عیاں تھی۔

داؤد نے کہا آج ہم کام کاج کرنے والے بچوں کے حقوق کا دن منایا جارہا ہے ناں؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا، وہ دوبارہ گویا ہوا کہ یہ سب جھوٹ ہے اگر ہمارے حقوق کا دن ہے تو پھر یہ کروڑوں روپے اشتہارات پر کیوں ضائع کیے گئے اگر یہی پیسے آج کے دن اس عزم کے ساتھ مجھ جیسے غریب بچوں کی تعلیم کے لیے خرچ کردیے جاتے تو کم از کم میں نہیں تو مجھ جیسے سیکڑوں بچے تو اسکول جا سکتے تھے اور اگر ہر سال اتنے ہی پیسے ہمارے حقوق کے لیے خرچ کیے جاتے تو اب تک میں اور مجھ جیسے لاکھوں بچے کام کے بجائے پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل روشن کر رہے ہوتے ،یہ سب جھوٹ ہے اور میں اس جھوٹ کو ماننے کے لیے تیار نہیں مجھے کوئی حق نہیں کہ میں سہانے خواب دیکھوں میرا یہی مقدر ہے ۔ میں جھوٹ کے سہارے جینے کے بجائے اسی سچ کے ساتھ جینا چاہتا ہوں کہ اس ملک میں میرا اور میرے جیسے کروڑوں بچوں کا نہ کوئی حق ہے اور نہ کوئی مستقبل۔

اس جذباتی اور کڑوے سچ کو سننے کے بعد میں نے داﺅد کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس نے میری کسی بات کا جواب نہ دیا۔ داﺅد کی باتوں نے مجھے لا جواب کر دیا میں اب بھی اس معصوم کے سوالوں کی جھنجھلاہٹ سے نہیں نکل پا رہا،دل کہہ رہا ہے کہ داﺅد بچہ سہی مگر جو کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top