بدھ, جون 17, 2026
اشتہار

کم سنی کی شادی یا آزمائشوں کا پلِ صراط

اشتہار

حیرت انگیز

زندگی کا سفر یوں تو خود ایک مسلسل آزمائش ہے، لیکن جب اس سفر کی شروعات ہی کچے قدموں سے کی جائے، تو زندگی کا ہر دن آزمائشوں کا پلِ صراط ثابت ہوتا ہے۔ کم سنی کی شادی بظاہر دو خاندانوں کا ملاپ یا ایک سماجی روایت کا نباہ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو انسان کے مستقبل، اس کی نفسیات اور اس کی روح کو ایک ایسے امتحان میں ڈال دیتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہوتی۔

جب ایک معصوم ذہن، جو ابھی خود زندگی کے معنی سمجھنے اور اپنے وجود کو پہچاننے کے عمل سے گزر رہا ہو، اچانک ازدواجی زندگی کی بھاری ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے، تو اس کے اندر کا انسان کہیں گہری کھائی میں گر جاتا ہے۔ وہ عمر جو کھل کر جینے، خواب دیکھنے اور خود کو سنوارنے کی ہوتی ہے، وہ دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے اور ایک ایسے بندھن کو گھسیٹنے میں سسک جاتی ہے جس کے لیے وہ ذہنی یا جسمانی طور پر تیار ہی نہیں تھا۔

اس کچے بندھن کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان سے اس کا سب سے بڑا حق یعنی انتخاب کا حق چھین لیتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب انسان پختگی کی منزلوں کو چھوتا ہے، اس کی سوچ بدلتی ہے، اس کے شعور کو پر لگتے ہیں، تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قیدِ بامشقت کا حصہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا ساتھی جس کا انتخاب اس وقت کیا گیا جب اچھے برے کی تمیز بھی ادھوری تھی، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اکثر ایک ذہنی اجنبی بن جاتا ہے۔ پھر پوری زندگی ایک ایسے راستے پر چلتے ہوئے گزرتی ہے جہاں ایک طرف سماجی دباؤ اور خاندانی روایات کی گہری کھائی ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنی ادھوری خواہشات اور گھٹتی ہوئی سانسوں کا کرب۔ اس راستے پر توازن برقرار رکھنا بالکل ویسا ہی ہے جیسے تیز دھار تلوار پر ننگے پاؤں چلنا، جہاں ہر قدم پر روح زخمی ہوتی ہے لیکن مسکرانا مجبوری بن جاتا ہے۔

بات صرف ذہنی ہم آہنگی کی ہی نہیں، بلکہ اس ادھورے پن کی ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ کم عمری میں تھوپ دی گئی ذمہ داریاں انسان کی ذاتی ترقی، تعلیم اور شعور کے تمام دروازے بند کر دیتی ہیں۔ ایک لڑکی جب خود ابھی بچپنے کی دہلیز پر ہو اور اسے ممتا کے سنگین فرائض سونپ دیے جائیں، یا ایک لڑکا جو ابھی لڑکپن کی ہواؤں میں ہو اور اسے پورے گھرانے کا کفیل بنا دیا جائے، تو ان کی اپنی ذات کہیں گم ہو جاتی ہے۔ وہ عمر بھر پچھتاوے کے سائے میں جیتے ہیں کہ کاش انہیں تھوڑا اور وقت ملا ہوتا، کاش انہوں نے زندگی کو اپنے طریقے سے دیکھا ہوتا۔ یہ پچھتاوا اور اندرونی تضاد وقت کے ساتھ ساتھ ایک مستقل خاموش عذاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں انسان نہ تو کھل کر جی سکتا ہے اور نہ ہی اس بندھن کو توڑ سکتا ہے، کیونکہ معاشرے کے بنائے ہوئے اصول اس کی پیٹھ پر خوف کا تازیانہ بن کر برستے رہتے ہیں۔

آخر کار، ایسی شادیاں اکثر دلوں کے ملاپ کے بجائے صرف دو وجودوں کا ایک چھت تلے گزارہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ جہاں محبت، احترام اور دوستی کی جگہ صرف سمجھوتا، خاموشی اور ایک بے نام سا خوف لے لیتا ہے۔ زندگی کا یہ طویل سفر، جو سکون اور اطمینان کا باعث ہونا چاہیے تھا، ایک مستقل ذہنی جنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کم سنی میں فرمانبرداری کے بوجھ یا نادانستگی میں اٹھایا گیا ایک قدم انسان کو عمر بھر کے لیے ایسے راستے کا مسافر بنا دیتا ہے جہاں سکون کی کوئی منزل نہیں ہوتی، بس ایک نہ ختم ہونے والا سفر ہوتا ہے جو زندگی کی آخری سانس تک پلِ صراط کی طرح پاؤں کو لہولہان کرتا رہتا ہے۔

عمران الرحمٰن
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں