site
stats
پاکستان

کراچی پولیس نے آٹھ سالہ بچی سے زیادتی کے ملزم کو گرفتارکرلیا

Child rape case

کراچی: سندھ پولیس نے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مبینہ مرکزی ملزم سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا ‘ مذکورہ ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی ظفر ٹاؤن میں گزشتہ سال 22 دسمبر کو زیادتی کا نشانہ بننے والی آٹھ سالہ کمسن بچی کے کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے پولیس نے مرکزی ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے اور اس کا نادرا سے ڈیٹا حاصل کیا جارہا ہے اور اس کی جیو فینسنگ بھی کرائی جارہی ہے

یادرہے کہ یہ واقعہ گزشتہ سال 22 دسمبر کو پیش آیا جب مغرب کے وقت بچی گھر سے باہر نکلی اور گیند اٹھانے کچھ آگے گئی تو ایک نامعلوم شخص اسے اغوا کرکے لے گیا۔ کچھ دیر بعد جب بچی روتی ہوئی گھرآئی اور والدین کو سانحے کی اطلاع دی تو انہوں نے فوری طور پر اس کا میڈیکل کرایا اور پولیس کو رپورٹ کیا۔

متاثرہ بچی کے مطابق اسے اغوا کرنے والا شخص اجنبی تھا اور اس نے سرمئی رنگ کی جیکٹ پہن رکھی تھی‘ مذکورہ درندے نے بچی کے گھر سے کچھ دور ریل کی پٹری پر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیکل رپورٹ نے بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

والدین کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفتیش میں پولیس نے ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا‘ پڑوسی کے گھر پر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے اغوا کار کی پہچان کرنے کی جانب متاثرہ بچی کے اہلِ خانہ نے توجہ کرائی تو پولیس نے ڈیٹا حاصل کیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں قصور میں زینب زیادتی کیس کے بعد پنجاب پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو کہ تاحال واقعے میں ملوث ملزمان اور ان کے مبینہ منظم گروہ کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

واضح رہے کہ قصور واقعے نے سب کے دل دہلا دیئے ہیں، کمسن زینب کو چندروز پہلے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد سفاک درندوں نے بچی کو زیادتی نشانہ بنا کر قتل کردیا تھا، جس کے خلاف ملک بھر میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top