چاکلیٹ کھانے پرکم سن ملازمہ کے ہاتھ جلا دیے -
The news is by your side.

Advertisement

چاکلیٹ کھانے پرکم سن ملازمہ کے ہاتھ جلا دیے

لاہور : پنجاب کے صوبائی دارالحکومت کے علاقے گلشن راوی میں کمسن گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے،بچی کا الزام ہے کہ اسے مالکان کے بچوں کی چاکلیٹ کھانے پر استری سے جلایا گیا،متاثرہ بچی کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے تحویل میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے گلشنِ راوی میں کمسن گھریلو ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے‘ ۹ سالہ شکیلہ نے الزام عائد کیا ہےکہ اس کے مالکان نے بنا پوچھے چاکلیٹ کھانے پر اسے استری سے جلایا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گلشنِ راوی کے رہائشی بلال اور اس کی اہلیہ نے اُن کے بچوں کی چاکلیٹ کھانے پر تشدد کا نشانہ بنایا،استری سے ہاتھ جلائے ،بال نوچے اور پھر گھر سے نکال دیا۔

متاثرہ بچی مضروب حالت میں گلی میں بیٹھی رو رہی تھی تو اہل محلہ میں سے ایک شخص تھانے لے گیا۔پولیس نے مالک بلال کو بلایا اور تو وہ اور اس کی اہلیہ تین گھنٹے تک آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔ اس موقع پر شکیلہ کو تھانے لانے والے شہری نے احتجاج کیا تو اسے تھانے سے نکال دیا گیا اور معاملہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے پاس چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں


ٹی وی اینکرکاملازمہ پر تشدد 

جج کے گھر میں کمسن ملازمہ پرتشدد

چئیر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سے تعلق رکھنے والی صبا صادق نے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے ،ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ بچی کو مکمل طبی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اسی نوعیت کا ایک واقعہ لاہور میں رپورٹ ہوا تھا ‘ جب ایک معروف ٹی وی اینکر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک کمسن بچی کو والدین کی مرضی کے خلاف حبسِ بے جا میں رکھا اور اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا‘ اس موقع پر تھانہ سندر کی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچی کو اسکے والدین کے حوالے کیا تھا۔

انہی دنوں سابق لیگی ایم این اے رشید اکبر نوانی اورسابق ایم پی اے سعید اکبر نوانی کے گھر میں ملازمہ پر تشدد کی کہانی سامنے آئی تھی ‘ سر عام کی ٹیم نے ایک کارروائی کے دوران مذکورہ بچی کو بازیاب کرایا، بچی کے ہاتھوں پیروں پر تشدد کے نشانات واضح تھے ، لوہے کی دہکتی سلاخوں سے جلایا گیا تھا۔ بارہ سالہ آمنہ کو ڈرایا دھمکایا اور مارا پیٹا گیااور سر سے پیر تک زخموں سے چور حالت میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کی گئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں