The news is by your side.

Advertisement

کیا آج کا دن دنیا کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے؟

آج ہانز کرسچن اینڈرسن کا یومِ پیدائش ہے اور اسی مناسبت سے دنیا ہر سال 2 اپریل کو بچوں کی کتب کا عالمی دن بھی مناتی ہے۔

ہانز کرسچن اینڈرسن کو دنیا ایک عظیم لکھاری اور ادیب کی حیثیت سے جانتی ہے۔

اس کے والد لوگوں کی جوتیاں گانٹھ کر اپنے کنبے کا پیٹ بمشکل بھر پاتے۔ 1805 میں پیدا ہونے والے اینڈریسن نے غربت اور تنگ دستی دیکھی تھی اور ایک روز والد کا سایہ بھی سَر سے اٹھ گیا۔ وہ دس سال کا تھا جب معاش کی خاطر اسے گھر سے نکلنا پڑا۔

اینڈرسن اسکول میں چند ہی جماعتیں ہی پڑھ سکا تھا، مگر جب بھی کوئی اخبار یا کتاب اس کے ہاتھ لگتی، بہت توجہ اور انہماک سے پڑھتا اور اسی اشتیاق، ذوق و شوق اور لگن نے اسے دنیا بھر میں عزت اور پہچان دی۔

ہانز کرسچین اینڈرسن کے تخلیقی جوہر اور اس کی صلاحیتوں کو بھانپ کر اس کے ایک محسن نے اسے کہانیاں لکھنے پر آمادہ کر لیا اور وقت نے ثابت کیا کہ اس کا یہ فیصلہ درست تھا۔

اس نے بچوں اور بڑوں کے لیے بھی ادب تخلیق کیا۔ اس کی کہانیاں دل چسپ، بامقصد اور سبق آموز تھیں جن کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ اس نے پریوں، بھوت پریت اور انجانی دنیا کے بارے میں‌ نہایت خوب صورتی سے کہانیاں تخلیق کیں جن میں اسنوکوئن، اگلی ڈکلنگ، ماچس فروش اور لٹل مرمیڈ یعنی ننھی جل پری آج بھی نہایت ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔

اس لکھاری کی تخلیقی صلاحیتوں اور اس کے قلم کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے دنیا نے اس کے یومِ پیدائش پر بچوں کی کتب کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ دن منایا جا رہا ہے۔ تاہم کرونا کی وبا کے باعث اس سال کہیں بھی اجتماع اور کتب میلوں کا انعقاد نہیں‌ کیا جاسکا ہے۔ ماضی میں اس دن کی مناسبت سے میلے اور دیگر تقاریب منعقد کی جاتی رہی ہیں۔

آج زمانہ بدل چکا ہے، اور اب کتب بینی کا رجحان کم ہو رہا ہے یا مطالعے کے لیے برقی آلات کا سہارا لیا جارہا ہے، لیکن اس دور میں بھی کتب اور مختلف رسائل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید آلات اوراقِ رسائل اور کتابوں کا نعم البدل ثابت نہیں ہوسکتے۔ ان کی اپنی اہمیت اور افادیت ضرور ہے، لیکن ہمیں اپنے مستقبل کو زیادہ باشعور، کارآمد اور مفید انسان بنانے کے لیے ان کی تعلیم و تربیت کے بہترین طریقے اپنانے کی ضرورت ہے اور کتابوں کو اس میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔

دنیا بھر میں دانش وروں اور نابغہ روزگار شخصیات کا اصرار ہے کہ بچوں کی کردار سازی اور ان کی تعلیم و تربیت میں معیاری کہانیاں اور معلوماتی کتب بہت اہمیت رکھتی ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اسمارٹ فونز اور دیگر آلات کے غیر ضروری اور خاص طور پر بے مقصد استعمال کے نقصانات کو سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کو کتب بینی پر آمادہ کریں اور اس دن کی مناسبت سے بچوں کو دل چسپ انداز اور عام فہم انداز سے کتابوں کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کریں۔

پاکستان میں چند دہائیوں قبل تک بچوں کے جرائد کی اشاعت اور مختلف رسالوں میں ان کے لیے گوشہ مخصوص ہوتا تھا جس کا ہر گھر میں‌ بچے بے تابی سے انتظار کرتے تھے۔ یہ سب نونہالانِ وطن کی اخلاقی اور فکری تربیت، کردار سازی اور ان کی صلاحیتوں کو ابھارنے کا اہم ذریعہ ہے جن کے قارئین کی تعداد کم ہوچکی ہے اور کئی ماہ نامے اور مختلف رسائل بند ہو چکے ہیں جو نہایت افسوس ناک اور قابلِ توجہ مسئلہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں