The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں لیچی کھانے سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 118 ہوگئی

نئی دہلی: بھارتی ریاست بہار میں لیچی کھانے سے بیمار ہوکر ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 118 ہوگئی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی ریاست بہار کے ضلع مظفر پور کا مرکزی اسپتال رواں ماہ کے آغاز سے لے کر اب دماغی بخار کی وباء پھوٹنے کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈاکٹر بچوں کی ہلاکت کی خبر کی وجوہات کی تصدیق نہیں کررہے لیکن ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ لیچی میں پایا جانےوالا زہریلا مواد غریب خاندانوں کے ان بچوں کو متاثر کررہا ہے جو رات میں کھانا کھائے بغیر سوتے ہیں۔

سری کرشنا میڈیکل کالج اور اسپتال ( ایس کے ایم سی ایچ) میں اس وقت 100 سے زائد بچے زیر علاج ہیں اور بستروں کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں، اسی ہسپتال کے کاریڈور میں کھڑے پریشان حال والدین میں 25 سالہ دلیپ ساہنی بھی شامل ہیں جو ایک مزدور ہیں، وہ اپنی ساڑھے 4 سالہ بیٹی مسکان کو بیمار پڑنے کے صرف 24 گھنٹے بعد اسپتال لائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز جب بچی کی والدہ نے صبح11 بجے اسے جگانے کی کوشش کی تو اس کے ہاتھ اور پاؤں سخت تھے اور جبڑے جڑے ہوئے تھے۔ دلیپ ساہنی نے کہا کہ ہم اسے کجریوال ہسپتال لے کر گئے جہاں رات کو ڈاکٹروں نے ہمیں بچی کو سری کرشنا میڈیکل کالج اور ہسپتال لے جانے کی ہدایت کی، ہم اسے یہاں لیکر آئے لیکن حالت بہت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے وہ چل بسی۔

انہوں نے بتایا کہ جس رات بچی مسکان کی حالت خراب ہوئی اس رات اس نے لیچی نہیں کھائی تھی، اس نے 10 دن پہلے یہ پھل کھایا تھا۔ بھارتی مشرقی ریاست کے والدین ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم نامی بخار کی وباء پھیلنے سے پریشان ہیں جو صحت کے شعبے میں بحران کی صورت حال اختیار کرگیا ہے۔

ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم ایکیوٹ انسیفلائٹس سینڈروم دماغی سوزش ہے، اس مرض کی علامات دماغ کے متاثرہ حصے کی بنیاد پر تبدیل ہوسکتی ہیں، عام طور پر سردرد، بخار، ذہنی الجھن اور جھٹکے لگنا شامل ہیں،اس بیماری کو بہار میں مقامی زبان میں چمکی بخار کہا جاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں