The news is by your side.

Advertisement

سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے متعلق امریکی یونیورسٹی کی تشویش ناک تحقیق

شکاگو: امریکی یونیورسٹی کے ایک تشویش ناک تحقیقی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز بچوں کو موٹاپے کا شکار کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مشہور امریکی شخصیات سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر بچوں کو موٹاپے کی جانب مائل کر رہے ہیں، یہ بات شگاگو یونیورسٹی کی جانب سے ہونے والے ایک تحقیقی مطالعے کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں محققین نے مشہور ترین شخصیات (سیلیبریٹیز) کی جانب سے سوشل میڈیا خصوصاً انسٹاگرام پر اسنکیس، کھانوں، اور مشروبات کے حوالےسے کی جانے والی پوسٹس کا جائزہ لیا، اور ان کو غذائی اشیا کے لیے متعین کردہ تشہیری معیار پر جانچا گیا۔

یہ بات سامنے آئی کہ 90 فی صد شخصیات کی سوشل میڈیا پوسٹس جَنک (الم غلم) اور فاسٹ فوڈ جیسے غیر صحت بخش کھانوں اور پینے کی اشیا پر مشتمل ہوتی ہیں، معلوم ہوا کہ سیلیبریٹیز کے 87 فی صد اکاؤنٹس کو غیر صحت بخش غذاؤں کے حوالے سے اسکور کیا گیا، جب کہ مشروبات میں یہ شرح 89.5 رہی۔

ریسرچ اسٹڈی کے نتائج کے مطابق سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی جانب سے 21.2 فی صد پوسٹس بیکری آئٹم (کیک، ڈونٹس اور براؤنیز)، 12.7 فی صد پھلوں، 8.1 فی صد سبزیوں، 6.5 فی صد ٹافی، 4.5 فی صد اسنیکس (چپس، پاپ کارن)، 4 فی صد بریڈز، 3.9 فی صد آئس اور اس نوعیت کی دیگر اشیا، 3.4 سینڈوچ اور چیز برگر وغیرہ، 3 فی صد پولٹری اور 2.8 فی صد لسانے اور چاول سے بنی ڈشوں سے متعلق تھیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ امریکا میں سگریٹ، اور الکوحل جیسی نشہ آور اشیا کے لیے سخت اشتہاری معیارات نہیں ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی اسٹار بچوں کو غیر صحت مند غذاؤں کی جانب راغب کر رہے ہیں۔

اگرچہ اس مطالعے میں سیلیبریٹیز کا نام نہیں دیا گیا تاہم ممکنہ طور پر ان میں پاپ سنگر آریانا گرینڈی، ہالی وڈ سینسیشن ڈیوائن جانسن ’دی راک‘ اور ریئلٹی ٹی وی اسٹار کم کارڈیشین بھی شامل ہیں، کیوں کہ یہ سیلیبریٹیز مجموعی طور پر 650 ملین سے زائد فالوورز رکھتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں