کبھی دادی کی نرم گود، کبھی نانی کا تکیہ، اور کبھی لکڑی کی پرانی پیٹی میں رکھی بچوں کی کہانیوں کی کتابیں، یہ تھیں بچپن کی خوب صورت یادیں، جو ہر رات ایک نئے قصے کے ساتھ جگمگاتی تھیں۔ لیکن پھر وقت بدلا، انداز بدلے، اور آج بچوں کی کہانیاں کراچی میں گلی گلی میں سنائی جا رہی ہیں۔
دیکھنے میں تو یہ آئسکریم کارٹ ہے، لیکن اس میں ٹھنڈک کا احساس آئس کریم سے نہیں بلکہ لفظوں، جذبات اور تخیل سے ہے۔ کیوں کہ اس کارٹ میں چھپے ہیں وہ جادوئی کتابیں جو سناتی ہیں خوابوں جیسی کہانیاں حقیقی انداز میں۔
دادی آن لائن ہیں، میں ہو مایا، جل گڑھے کی کہانی، نوری، خوف ناک پلو گر، یادوں کا خزانہ، ایک پلاسٹک کی تھیلی، پیلے دوپٹے، دادی ماں کا راز یہ کہانیاں نثر سعید کی لکھی ہوئی ہیں، جن کا مقصد ہے بیتے پلوں کو نئے انداز میں پیش کرنا۔
ویڈیو رپورٹ: 1952 میں دوسرے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کے نام سے آباد علاقہ اب برباد
نثر کہتی ہیں شہر کراچی کے مختلف پس ماندہ علاقوں میں جا کر انہی کی کمیونٹی کا ہر فرد بچوں کہانیاں سُناتا ہے، جس سے ان کی شخصیت نکھر رہی ہے۔ ننھے بچوں کو اپنی زبانی کہانی سُناتے حیات کے مطابق ان پس ماندہ علاقوں کے بچے زیادہ ہنر مند ہوتے ہیں، جلدی سیکھتے ہیں۔
کہانی آ رہی ہے ۔۔۔ کورنگی ہو، یا شہر کے کسی بھی علاقے کے بچے جب یہ میوزک سنتے ہیں تو بھاگتے دوڑتے چلے آتے ہیں کیوں کہ یہ وہ خواب ہے جو جاگتی آنکھوں سے دیکھے جا رہے ہیں۔
ملٹی میڈیا – ویڈیو خبریں دیکھنے کے لیے کلک کریں
روحہ فاطمہ اے آر وائی نیوز کراچی کے لئے موسمیات اور سماجی مسائل سے متعلق خبریں رپورٹ کرتی ہیں


