پیر, فروری 9, 2026
اشتہار

راجہ کی بیٹیاں‌

اشتہار

حیرت انگیز

ایک چھوٹے سے ملک کے راجہ کی بیوی فوت ہو گئی۔ راجہ کا کوئی بہت وسیع و عریض رقبے پر محل نہیں تھا اور نہ ہی بہت سارے نوکر چاکر اس کی شان و شوکت ویسی نہیں‌ تھی جیسا کہ ہم بادشاہوں اور راجاؤں کی سنتے رہے ہیں۔ مگر تھا وہ راجہ ہی اور اپنی رعایا سے مخلص بھی تھا البتہ کانوں کا بڑا کچا تھا۔

راجہ کی دو کم عمر بیٹیاں تھیں۔ ان کی خاطر راجہ نے کچھ عرصہ بعد دوسری شادی کر لی۔ وہ چاہتا تھا کہ بچیوں کو ماں کی کمی محسوس نہ ہو۔ جو عورت سوتیلی ماں بن کر آئی تو اسے راجہ کی پہلی بیوی کی اولاد سے چڑ ہوگئی۔ وہ ان دونوں‌ لڑکیوں سے کسی طرح چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی۔ وہ سارا دن دونوں لڑکیوں کو مختلف کاموں پر لگائے رکھتی اور ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتی۔ جیسے ہی راجہ کے اپنے گھر آنے کا وقت ہوتا، اپنے سَر پر کپڑا باندھ کر لیٹ رہتی اور راجہ کو کہتی کہ تیری دونوں بیٹیوں نے مجھے بہت تنگ کر رکھا ہے اور میں تو سارا دن ان کے پیچھے بھاگ بھاگ کر ہلکان ہو جاتی ہوں۔ راجہ کبھی بیٹیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا اور کبھی چپ ہو رہتا۔

بچیاں ادب کی وجہ سے باپ کے سامنے کوئی بات نہ کرتیں۔ لیکن بچیوں کی سوتیلی ماں روزانہ نت نئی شکایات لگاتی رہتی۔ اس نے راجہ کو بہت تنگ کیا اور ایک دن کہہ دیا کہ یا یہ دونوں اس گھر میں رہیں گی یا میں۔ راجہ جو کانوں کا کچا تھا اور اپنی نئی بیوی کی ہر بات بلا حیل و حجت مان لیتا تھا، وہ یہ سن کر سوچ میں پڑ گیا کہ کرے تو کیا کرے۔ وہ اس کی بیٹیاں‌ تو تھیں نا۔ مگر بیوی کی خوشی بھی اسے عزیز تھی۔ راجہ کی بیٹیاں کم عمر ضرور تھیں لیکن انھیں ہر بات کا علم تھا کہ ان کی سوتیلی ماں کیسے ہر روز ان کے والد کو ان کے خلاف بھڑکاتی رہتی ہے۔ جب سوتیلی ماں نے یہ کہا کہ یا یہ رہیں گی یا میں۔ تو انھوں نے اپنے والد کو پریشانی سے بچانے کا فیصلہ کیا، اور خود ہی کہا کہ آپ ہمیں ہماری ماں کی قبر پر چھوڑ آئیں، ہم یہاں نہیں رہیں گی تو ہماری سوتیلی ماں آپ کو تنگ بھی نہیں کرے گی۔ راجہ مرتا کیا نہ کرتا، دونوں بیٹیوں کو لے گیا اور ان کی ماں کی قبر پر چھوڑ کر خود لوٹ آیا اور اپنی بیوی کو یہ بتا دیا۔

وہ دونوں بہنیں ماں کی قبر پر رہنے لگیں۔ قبر کے ساتھ بیری کا ایک درخت لگا ہوا تھا۔ دن میں وہ دونوں اس کی چھاؤں میں بیٹھی رہتیں، ماں کی قبر کے اردگرد جھاڑو پھیرتیں، صفائی کرتیں اور درخت سے گرنے والے بیروں سے پیٹ بھر لیتیں۔ اور رات کو وہیں سو جاتیں۔

ادھر کچھ دن گزرے تو سوتیلی ماں کو خیا ل آیا کہ پتہ تو کروں کہ وہ زندہ ہیں کہ مر گئی ہیں۔ اس نے اپنی پالتو بلّی کو جاسوسی کرنے کے لیے بھیجا۔ بلی نے واپس آکر بتایا کہ وہ دونوں زندہ ہیں اور ماں کی قبر پر لگی بیری کی چھاؤں میں سارا دن آرام کرتی ہیں اور گرنے والے بیروں کو چن کر پیٹ بھر لیتی ہیں۔ یہ سن کر اسے بہت غصہ آیا۔ شام کو راجہ گھر آیا تو اس نے راجہ سے کہا، میں سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی ہوں اور کوئی کام کرنا چاہتی ہوں۔ تم ایسا کرو کہ مجھے چرخا بنوا کر دو۔ اور چرخا بھی اس بیری کا جو تمھاری پہلی بیوی کی قبر پر لگا ہوا ہے۔ راجہ تو اس عورت کے دام میں آ چکا تھا، اس نے بیوی کی فرمائش کو نہ ٹالا اور وہ بیری کٹوا کر چرخا بنوا کر دے دیا۔

جب بیری کٹ گئی تو دونوں بہنیں پریشان ہوئیں کہ اب کیا کھائیں گی؟ دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی۔ ان کی دعا قبول ہوئی اور روزانہ شام کو کہیں سے چاولوں کی ایک پلیٹ وہاں آ نے لگ گئی اور وہ دونوں وہی کھا کر اپنے دن گزارنے لگیں۔ بڑی بہن روزانہ چھوٹی بہن کوکھانے سے پہلے سمجھایا کرتی کہ دیکھنا کوئی چاول کا دانہ نیچے ناگر جائے، اور رزق کی بے حرمتی نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم دونوں سے ناراض ہو جائیں اور ہمیں یہ چاول ملنے بند ہو جائیں۔ کچھ دن اور گزرے تو راجہ کی بیوی نے پھر اپنی بلّی کو بھیجا اور اس سے کہا کہ جاؤ دیکھ کر آؤ کہ وہ زندہ ہیں کہ مر گئی ہیں۔ اگر زندہ ہیں تو کیا کھاتی ہیں؟

بلّی راجہ کی پہلی بیوی کی قبر پر گئی اور چھپ کر راجہ کی دونوں لڑکیوں‌ کو دیکھتی رہی۔ چھوٹی بہن ہر ممکن کوشش کرتی کہ کوئی دانہ نیچے نہ گرے، لیکن وہ چھوٹی ہی تو تھی، زیادہ دن خیال نہیں رکھ سکی اور کتنی ہی کوشش کی مگر ایک دن اس سے ایک دانہ نیچے گر گیا۔ بلی نے فٹا فٹ وہ دانہ اٹھایا اپنے کان میں رکھا اور واپس اپنی مالکن کے پاس پہنچ گئی۔ اور ساری صورت حال بتائی کہ وہ دونوں زندہ ہیں اور یہ کھاتی ہیں۔ سوتیلی ماں کو اور غصہ چڑھ گیا کہ وہ دونوں زندہ بھی ہیں اور انھیں کھانے کو بھی مل رہا ہے۔

شام کو راجہ آیا تو اس نے ایک نئی بات کی کہ تمھاری دونوں لڑکیاں روزانہ مجھے خواب میں آ کر ڈراتی ہیں اور میں نے فلاں فلاں سے پوچھا ہے کہ اس کا کیا حل ہے؟ تو اس نے کہا ہے کہ جب تک وہ دونوں لڑکیاں تمھارے شوہر کی سلطنت میں رہیں گی تو تمھیں خواب میں ڈراتی رہیں گی۔ تم ایسا کرو کہ انھیں کہیں دور چھوڑ آؤ۔ راجہ جو مکمل طور پر اس کی گرفت میں آ گیا تھا اس نے ہامی بھر لی کہ وہ کل ہی انھیں کہیں دور چھوڑ آئے گا۔

اگلی صبح راجہ سویرے سویرے اپنی بیوی کی قبر پر پہنچ گیا اور دونوں بیٹیوں سے کہا کہ آؤ کچھ گوبر اکٹھا کر لیں۔ دونوں بیٹیاں باپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور اس کے ساتھ گوبر اکٹھا کرنے لگ گئیں اور وہ تینوں دوپہر تک چلتے چلتے کافی دور نکل آئے۔ جب دوپہر تھوڑا ڈھل گئی تو راجہ نے دونوں بیٹیوں کو ایک درخت کے نیچے بٹھایا اور انھیں کہا کہ تم دونوں یہاں کھیلو میں ذرا اپنی پگڑی دھو لوں۔ دونوں بیٹیاں وہاں کھیلنے لگ گئیں اور راجہ ایک طرف چلا گیا۔ بیٹیوں کو کچھ دیر بعد ٹھک ٹھک کی آواز آنے لگی جیسے کوئی ڈنڈے سے کپڑے دھو رہا ہو۔

کافی وقت گزر گیا اور شام ہونے لگی تو راجہ کی بیٹیاں پریشان ہو گئیں کہ اتنی دیر ہو گئی۔ ہمارے والد ابھی تک واپس نہیں آئے مگر وہ آواز اب بھی آرہی ہے۔ ان کو ڈر بھی لگا اور والد کو دیکھنا بھی تھا۔ آخر دونوں ندی کی طرف چل پڑیں، وہاں پہنچ کر کیا دیکھا کہ ایک درخت کی شاخ سے کپڑے کے ٹکڑے کے ساتھ ایک لکڑی اس طرح‌ پھنسائی ہوئی ہے کہ ہوا کے چلنے سے وہ ہل ہل کر درخت کے تنے سے ٹکراتی ہے، جس سے ایسی آواز پیدا ہو رہی جیسے کوئی ڈنڈے سے کپڑا کوٹ رہا ہے۔ دونوں کو سمجھ آ گئی کہ ان کا والد انھیں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا ہے۔

اب اندھیرا بھی بڑھ چکا تھا۔ دونوں پریشان ہوئیں کہ اب کہاں جائیں! اتنے میں بڑی بہن نے چھوٹی کو کہا کہ تم کسی درخت پر چڑھو اور دیکھو کسی طرف روشنی ہے؟ چھوٹی بہن نے ایک درخت پر چڑھ کر چاروں طرف نظر دوڑائی تو اسے ایک طرف روشنی دکھائی دی۔ وہ نیچے آ ئی اور بہن کو بتایا کہ اس طرف روشنی ہے۔ بڑی بہن نے کہا کہ اس کا مطلب ہے، وہاں کوئی نہ کوئی گھر ہے۔ ہم ادھر چلتے ہیں شاید کوئی ہمیں رات بھر کے لیے پنا ہ دے دے۔ آخر اس سمت چلتے چلتے وہ ایک گھر تک پہنچ گئیں۔

وہ گھر ایک بڑھیا کا تھا۔ بڑی بہن نے بڑھیا کو اپنے ساتھ بیتنے والےسارے واقعات سنا کر ایک رات ٹھہرنے کی اجازت مانگی۔ بڑھیا نے جواب دیا کہ میں تم دونوں کو ہمیشہ کے لیے رکھ لوں لیکن ایک مسئلہ ہے۔

وہ کیا اماں۔۔۔؟ بڑی لڑکی نے پوچھا تو بڑھیا نے جواب دیا کہ میرا ایک بیٹا ہے جو انسانوں‌ کو کھا جاتا ہے۔ وہ تم دونوں کو بھی کھا جائے گا۔ راجہ کی بڑی لڑکی نے کہا، اماں جی۔۔ آپ اس کے آنے پر ہمیں کہیں چھپا دینا۔۔۔ ایک رات کی ہی تو بات ہے ہم صبح چلی جائیں گی۔ بڑھیا نے کچھ سوچ کر ان دونوں کو مکان کے اندر بلا لیا۔

آدھی رات کے وقت بڑھیا کا بیٹا گھر آیا تو دستک سن کر بڑھیا نے فوراً دونوں لڑکیوں کو چھپا دیا۔ بڑھیا کا بیٹا اندر آتے ہی آدم بُو، آدم بُو کی آواز لگانے لگا۔ اور ماں سے کہا کہ اماں ہمارے گھر میں کوئی ہے۔ بڑھیا نے بہتیرا کہا کہ بیٹا میرے سوا کوئی نہیں۔ لیکن وہ نہیں مانا اور گھر کا سامان الٹ پلٹ کرنے لگا۔ جب اس نے دانے رکھنے والے بھڑولے میں ہاتھ مارا تو اسے دونوں بہنوں‌ میں‌ سے چھوٹی مل گئی اور کپڑوں والی پیٹی سے بڑی بہن بھی برآمد ہوگئی۔ بڑھیا کا بیٹا دو دو لڑکیاں دیکھ کر خوش ہوگیا۔ اس نے کہا کہ آج تو خوب دعوت اڑاؤں گا اور بڑی سی کڑاہی میں تیل ڈال کر اس کے نیچے آگ لگا دی۔ اب اس نے دونوں لڑکیوں کو بلایا اور انھیں کہا کہ اس کڑاہی کے گرد چکر لگاؤ۔

بڑھیا نے پہلے ہی دونوں لڑکیوں کو بتا دیا تھا کہ وہ اپنے شکار کو اس طرح چکر لگواتا ہے اور جب آٹھ دس چکر ہو جاتے ہیں تو اٹھا کر کڑاہی میں پھینک دیتا ہے اور پھر بھون کر کھا جاتا ہے۔ ادھر وہ دونوں بہنیں بھی منصوبہ بنا چکی تھیں کہ اس سے پہلے کہ وہ ہمیں اٹھا کر پھینکے ہم اسے پھینک دیں گی۔ اور ہوا بھی یہی۔ دونوں لڑکیوں کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اسے کڑاہی میں‌ دھکا دینے میں کام یاب ہوگئیں۔ وہ بدبخت جل کر مر گیا۔ بڑھیا بھی اس سے بیزار تھی بلکہ اس کے اس ظلم سے ایسی نفرت کرتی تھی کہ خود اپنے بیٹے کو مرتا دیکھ کر خوشی کا اظہار کررہی تھی۔

اب وہ دونوں اسی بڑھیا کے گھر رہنے لگیں۔ چھوٹی بہن دن میں جانوروں کو چرانے لے جاتی اور بڑی بہن گھر میں کھانے پکانے، سینے پرونے اور صفائی ستھرائی میں بڑھیا کا ہاتھ بٹاتی۔ اسی طرح کچھ وقت گزر گیا۔

ایک دوپہر دروازے پر دستک ہوئی تو بڑھیا دروازے پر گئی۔ وہاں ایک گھڑ سوار موجود تھا۔ اس نے بڑھیا سے کہا کہ اماں میں فلاں ملک کا شہزادہ ہوں اور شکار پر نکلا ہوں لیکن اپنے ساتھیوں سے بچھڑ گیا ہوں۔ میرے پاس یہ بٹیر ہیں، تم مہربانی کر کے انھیں بھون کر مجھے دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بڑھیا نے اس سے بٹیر لے کر راجہ کی بڑی لڑکی کو دیے کہ وہ اسے بھون دے۔ بڑھیا نے بھنے ہوئے بٹیر شہزادے کو دیے اور وہ چلا گیا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد واپس آگیا اور بڑھیا سے پوچھا کہ بٹیر کس نے بھونا تھا! بڑھیا نے کہا کہ میری بڑی بیٹی نے۔

شہزادے نے کہا کہ یہ جس نے بھی بھونا ہے وہ بہت سگھڑ ہے، کیا تم اس کی شادی مجھ سے کرو گی۔ بڑھیا کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اس نے اندر جا کر لڑکی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ آپ میری ماں ہی ہیں جو فیصلہ کریں گی مجھے منظور ہے۔بڑھیا نے باہر آ کر شہزادے کو ہاں کہہ دیا اور اسے کچھ دن بعد بارات لانے کا کہا۔

بارات کے آنے سے کچھ دن پہلے چھوٹی بہن نے بڑی بہن سے کہا کہ باجی تم دور چلی جاؤ گی اور کبھی میرا ملنے کا دل کیا تو کیسے ملنے آسکوں گی! بڑی بہن نے جواب دیا کہ میں ڈولی میں ایک برتن سرسوں کے بیجوں کا رکھ لوں گی اور راستے میں بیج پھینکتی جاؤں گی، جب تمھارا ملنے کو دل کرے تو تم ڈولی کے راستے پر نکلنا اور سرسوں کے بیجوں سے پھوٹے ہوئے پودوں کو دیکھتے دیکھتے میرے پاس پہنچ جانا۔

دن گزرتے گئے، شہزادہ مقررہ دن بارات لے کر بڑھیا کےمکان پر پہنچ گیا اور بڑی بہن کو بیاہ کر ساتھ لے گیا۔ وہ سرسوں کے بیج سارے راستے میں بکھیرتی گئی۔ لیکن شومئی قسمت کہ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی بیج ختم ہو گئے۔

چند ماہ گزرے تو چھوٹی بہن کا دل چاہا کہ اپنی بہن سے جا کر ملوں۔ اس نے بڑھیا سے جانے کی اجازت مانگی اور سرسوں کے پھوٹے ہوئے پودوں کو دیکھتے دیکھتے اپنا سفر شروع کر دیا لیکن ایک شہر کے نزدیک جا کر سرسوں کے پودے ختم ہو گئے۔ اسے سمجھ نہیں آئی کہ اب کیا کرے۔ آخر اس نے وہیں ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا لیا اور ایک تنور لگا کر لوگوں کو روٹیاں لگانے اور دانے بھون کر دینے لگی۔

تنور کے لیے لکڑیاں اور گھانس پھونس اکٹھا کرنے کے لیے وہ اردگرد جاتی رہتی تھی، اسی طرح ایک دن وہ کہیں سے لکڑیاں اکٹھی کر رہی تھی کہ اسے بچے کے رونے کی آوازآئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک بچہ کوڑا کے ڈھیر پر پڑا ہوا ہے۔ وہ بچے کو اٹھا کر اپنے جھونپڑے میں لے آ ئی۔ اور اسے پالنا پوسنا شروع کر دیا۔ جب بچہ تھوڑا بڑا ہوا تو اس نے اسے کچھ کھلونے لا کر دیے، جس میں لکڑی کا گھوڑا بھی تھا۔

بچہ ایک دن اپنے لکڑی کے گھوڑے کو ندی پر لے گیا اور آواز لگائی آٹھ کاٹھ کے گھوڑے پانی چھو پی جا۔۔ وہاں پر نزدیک ہی وہ شہزادہ اپنے گھوڑے کو پانی پلا رہا تھا جس نے بڑھیا کے گھر میں‌ اس لڑکی سے شادی کی تھی۔ اس نے بچے سے یہ بات سنی تو اس سے کہا کہ بھلا کبھی آٹھ کاٹھ کے گھوڑے نے بھی پانی پیا ہے!

بچہ جب گھر آیا تو اس نے اپنی ‘ماں’ سے کہا کہ آج ندی پر ایک ایسا لباس پہنے گھڑ سوار ملا تھا، اس نے مجھے کہا کہ کبھی آٹھ کاٹھ کے گھوڑے نے بھی پانی پیا ہے! وہ لڑکی جسے یہ بچہ اپنی ماں‌ ہی سمجھتا تھا، اس نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کہے تو تم اسے یہ جواب دینا کہ کبھی بادشاہ زادیوں نے بھی چھاج انگاروں کا پیدا کیا ہے؟

کچھ دنوں کےبعد بچہ اور شہزادہ پھر ایک ہی وقت ندی پر اکٹھے ہوئے تو بچے نے پھر وہی صدا لگائی اور شہزادے نے یہ سنا تو اسے کہا کہ تمھیں پہلے بھی کہا ہے کہ آٹھ کاٹھ کے گھوڑے پانی نہیں پیتے۔ اس پر بچے نے اسے جواب دیا کہ ‘اگر بادشاہ زادیاں چھاج انگاروں کا پیدا کر سکتی ہیں تو آٹھ کاٹھ کے گھوڑے بھی پانی پی سکتے ہیں’ شہزادہ یہ جواب سن کر فوراً اپنے گھر روانہ ہو گیا۔

شہزادے نے گھر پہنچ کر اپنی ساری بیویوں کو اکٹھا کیا اور انھیں مارا پیٹا کہ آج ایک چھوٹے سے بچے نے مجھے یہ بات کی ہے، سچ سچ بتاؤ۔ (اصل میں ہوا کچھ یوں تھا کہ شہزادہ ایک مہم کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے گھر سے دور گیا ہوا تھا اور اس دوران اس کی نئی بیوی (بڑی بہن) کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ لیکن شہزادے کی دوسری بیویوں نے حسد میں آ کر اس بچے کو دور پھینک دیا تھا اور جب شہزادہ واپس آیا تو انھوں نے بتایا کہ تمھاری نئی بیوی کا بچہ ضائع ہو گیا ہے)۔ اب جب شہزادے نے سختی کی تو اس کی بیویوں نے سچ اگل دیا۔ ساری بات شہزادے کی سمجھ میں آ گئی۔ وہ بچے کو ڈھونڈتا ہوا جھونپڑے تک آیا اور اپنی بیوی کی بہن اور بیٹے کو اپنے گھر لے آیا۔ دونوں بہنیں ہنسی خوشی رہنے لگیں۔

یہاں یہ داستان ختم ہو گئی لیکن ایک دن دروازے پر کوئی فقیر آیا۔ چھوٹی بہن اسے خیرات دینے گئی تو کھلے دروازے سے بڑی بہن نے بھی فقیر کی جھلک دیکھی۔ چھوٹی بہن دروازہ بند کر کے واپس مڑی تو بڑی بہن نے کہا، پتہ نہیں مجھے کیوں شک پڑ رہا ہے کہ یہ فقیر ہمارا والد ہے۔ تم جاؤ اور ذرا اسے اندر بلا کر لاؤ۔ بڑی بہن نے فقیر کو پہچان لیا، وہ واقعی راجہ تھا۔ مگر اس سے سارا مال و دولت اور سلطنت دوسری بیوی نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر چھین لی تھی اور اب وہ در بدر پھر رہا تھا۔ لیکن بیٹیاں آخر بیٹیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کو معاف کردیا اور اپنے گھر میں رکھ کر اس کی خدمت کرنے لگیں۔

(یہ دل چسپ کہانی مختلف کتابوں میں پڑھنے کو ملتی ہے، جس کے اصل مصنّف کا نام معلوم نہیں‌)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں