The news is by your side.

Advertisement

بچوں نے مزدوری کے لیے مویشی منڈی کا رخ کر لیا، ننھے طالب علم نے بھی لیموں پانی کا ٹھیلا لگا لیا

کراچی: ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی میں بچوں نے بھی مزدوری کے لیے جگہ بنا لی، کوئی پھیری لگا کر سموسے بیچ رہا ہے، کسی نے لیموں پانی کا ٹھیلا لگا رکھا ہے، تو کوئی ننھا بیوپاری اپنے چھوٹے جانوروں کے ساتھ انھیں اچھے مول پر فروخت کے لیے سپر ہائی وے مویشی منڈی آیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق کراچی سپر ہائی وے سہراب گوٹھ کے قریب ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی ہے، جس میں سب کے لیے روزگار کے دروازے کھلے ہیں۔

مویشی منڈی میں ساتویں کلاس کے طالب علم نے بھی لیموں پانی کا ٹھیلا لگا لیا ہے، 7 ویں کلاس کے طالب علم زبیر کا کہنا ہے کہ وہ یہاں روز 500 روپے کی دہاڑی لگا رہا ہے، زبیر نے بتایا کہ میں اسکول سے چھٹی کے بعد یہاں آ جاتا ہوں، اور دیہاڑی لگا کر اپنی کورس کی کتابیں، ٹیوشن کی فیس اور امتحانی فارم کے لیے پیسے جمع کر رہا ہوں۔

ننھا ارباز سموسے اور پیٹس لے کر روزگار کے لیے مویشی منڈی آ گیا ہے، پھیری لگا کر سموسے اور پیٹس بیچ کر روزی کمانے والے ارباز نامی ننھے بچے کا کہنا ہے کہ جب سے سپر ہائی وے سہراب گوٹھ پر مویشی منڈی لگی ہے، مجھے بھی یہاں روزگار مل گیا ہے، سموسے، پیٹس بیچ کر جو بھی پیسے ملتے ہیں ان سے گھر والوں کے لیے دو وقت کی روٹی مل جاتی ہے اور کچھ پیسے بچا کر دوبارہ پیٹس اور سموسے بنا کر یہاں فروخت کرنے کے لیے آ جاتا ہوں۔

پنجاب کے شہر بہاولپور کا ننھا زبیر بھی آیا ہے لیکن خوب صورت جانور لے کر، اسی طرح رحیم یار خان کے ننھے بیوپاری نے بڑے جانور کے ساتھ چھوٹا جانور فری دینے پیش کش کی ہوئی ہے۔

رحیم یار خان کا ننھا بیوپاری عمران اپنے ساتھ چھوٹا سا ایک خوب صورت بچھڑا ساتھ لایا ہے، دن رات اس کی خدمت کرتا ہے، اسے چارہ کھلاتا ہے، پانی پلاتا ہے، اس چھوٹے سے بیوپاری کی آنکھوں میں بھی چھوٹے چھوٹے سے سپنوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ عمران نے بتایا کہ اگر کسی شخص نے اس سے 2 لاکھ روپے میں قربانی کا جانور خریدا تو یہ بچھڑا اسے گفٹ کردوں گا، میں نے اسے بڑے ناز نخروں سے پالا ہے۔

اس مویشی منڈی میں گھوم پھر کر کچرا اٹھانے والے چھوٹے چھوٹے بچوں کا روزگار بھی لگا ہے، وہ ٹرکوں، ٹرالرز، ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیا کے اسٹالز کے پاس بکھرا ہوا گھاس پھوس اور پلاسٹک اٹھا کر انھیں فروخت کر کے اپنے جیب کا خرچا چلا رہے ہیں۔

مویشی منڈی کے ترجمان یاور رضا چاؤلہ کا کہنا ہے کہ بیوپاری ہو یا تاجر، پھیری لگا کر اشیا فروخت کرنے والا ہو یا شربت فروش، کوئی طالب عم ہو یا بیروزگار نوجوان یہ سب لوگ اپنے اچھے مستقبل کے خواب لے کر ہر سال سپر ہائی وے مویشی منڈی کا رخ کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حب کراچی سے لاکھوں، کروڑوں لوگوں کا کاروبار جڑا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں