بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

چلی میں جنگلات میں لگی آگ سے 18 افراد ہلاک، 20 ہزار افراد نے نقل مکانی کر لی

اشتہار

حیرت انگیز

سانتیاگو (19 جنوری 2026): جنوبی امریکی ملک چلی میں جنگلات میں لگی آگ سے 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جب کہ 20 ہزار افراد نے نقل مکانی کر لی۔

روئٹرز کے مطابق چلی میں جنگلات میں بھڑکنے والی شدید آگ کے باعث کم از کم 20 ہزار افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی جب کہ کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جس پر ملک کے صدر گیبریل بورک نے اتوار کے روز جنوبی حصے کے دو علاقوں نیوبلے اور بیو بیو میں ہنگامی حالت (اسٹیٹ آف کیٹاسٹروفی) نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

چلی کے جنگلاتی ادارے کوناف کے مطابق اتوار کی صبح تک ملک بھر میں 24 فعال آگ کے واقعات ہوئے تھے، اور ان میں سب سے بڑی آگ نیوبلے (Ñuble) اور بیو بیو (Bío Bío) کے علاقوں میں لگی۔

صدر بورک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک بیان میں کہا ’’جنگلاتی آگ کی سنگین اور جاری صورت حال کے پیشِ نظر، میں نے نیوبلے اور بیو بیو کے علاقوں میں اسٹیٹ آف کیٹاسٹروفی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

بورک نے اتوار کی شام جنوبی شہر کونسیپسیون میں متاثرہ بلدیاتی علاقوں کے میئرز کے ساتھ اجلاس کے بعد بتایا کہ آگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اور اب تک ان دونوں علاقوں میں تقریباً 8,500 ہیکٹر (21 ہزار ایکڑ) رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جس سے متعدد آبادیاں خطرے میں پڑ گئیں اور حکام کو انخلا کے احکامات جاری کرنا پڑے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 34 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا، کولنگ کا عمل جاری ہے، چیف آفیسر

چلی کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے سیناپریڈ کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جب کہ کم از کم 250 گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تیز ہوائیں اور شدید گرمی جیسے ناموافق موسمی حالات نے آگ کے پھیلاؤ میں اضافہ کیا اور فائر فائٹرز کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل بنا دیا۔

چلی کے بیش تر حصوں میں شدید گرمی کے انتباہات جاری تھے، اور اتوار و پیر کو سانتیاگو سے بیو بیو تک درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100 فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کی توقع تھی۔ سال کے آغاز سے ہی چلی اور ارجنٹینا دونوں غیر معمولی حد تک زیادہ درجہ حرارت اور ہیٹ ویوز کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ رواں ماہ کے اوائل میں ارجنٹینا کے علاقے پیٹاگونیا میں بھی تباہ کن جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی تھی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں