سانتیاگو (20 جنوری 2026): جنوبی امریکی ملک چلی کے جنگلات میں بھڑکتی آگ تیسرے دن بھی بے قابو ہے، اور پورے پورے قصبے جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس خوف ناک آگ میں اب تک 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور چلی کے جنوبی علاقوں نیوبلے اور بائیوبائیو میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔
مذکورہ دونوں علاقوں میں اب تک 8 ہزار 500 ہیکٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور 50 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ چلی کے ڈیزاسٹر منجمنٹ ادارے کا کہنا ہے کہ 5 ہزار سے زائد مکنات جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ آگ کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تیز ہواؤں کے سبب فائر فائٹرز کو آگ پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور 3500 فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
برلن اور پیرس نے ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف ہاتھ ملا لیے
یاد رہے کہ چلی کے بیش تر حصوں میں پہلے ہی شدید گرمی کا الرٹ ہے، دارالحکومت سانتیاگو سے بائیوبائیو تک درجہ حرارت 25 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق سیکیورٹی وزیر لوئس کورڈیرو نے پیر کے روز ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ اگرچہ رات کے وقت موسم کچھ ٹھنڈا ہونے سے بعض مقامات پر آگ پر قابو پانے میں مدد ملی، تاہم جہاں سب سے شدید آگ لگی ہے وہ اب بھی بھڑک رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’دن میں درجہ حرارت میں اضافے کی پیشگوئی ہے جس کی وجہ سے پورے خطے میں نئی آگ بھڑک اٹھنے کا خدشہ ہے۔‘‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں



