The news is by your side.

Advertisement

لداخ میں بھارت کو چین کے ہاتھوں عبرتناک شکست

نئی دہلی / بیجنگ: چین کی فوج نے لداخ کے متنازع علاقے کا کنٹرول حاصل کر کے بھارت کو چاروں شانے چت کردیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق چین نےلداخ ریجن میں بھارت کو عبرت ناک شکست دے کر علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا، بھارتی میڈیا نے شکست فاش پر چپ کا روز رکھ لیا۔

بھارتی فوج کو لداخ میں ہونے والی مسلسل جھڑپوں میں چین کےہاتھوں شدید ہزیمت کاسامنا کرنا پڑا جس کے بعد مودی سرکار نے چین کے معاملے پر خاموشی اختیار کرلی۔

بھارتی میڈیا لداخ میں ہونے والی شکست پر اس قدر حواس باختہ ہے کہ اُس نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے منسوب کرکے جھوٹا بیان چلانا شروع کردیا۔

بھارتی میڈیا پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کےلائن آف کنٹرول کےدورے پربیان کو توڑ مروڑ کے پیش کیا جارہا ہے۔   اُس کے باوجود سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صارفین نے لداخ میں ہونے والی شکست پر اس قدر گفتگو کی کہ یہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

یاد رہے کہ بھارت نے رواں سال  کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد لداخ کے متنازع علاقے کے ساتھ بھی کھیلنے کی کوشش کی تھی جس پر چین نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا اور سکم بارڈر پر مزید فوجی تعینات کیے۔

چین نے لداخ اور سکم کی سرحد پر مزید 5 ہزار فوجی تعینات کردیے اور واضح کیا کہ بھارت نے متنازع علاقہ کا اسٹیٹس یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: متنازع سرحدی علاقہ: چین اور بھارتی افواج میں جھڑپ، صورتحال کشیدہ

چین کی فوج نے لداخ اور سکم کے قریب زیر زمین بنکرز بھی بنانے شروع کردیے جبکہ  وادی گالوان کے اطراف میں چینی فوج کے 8 سو خیمے نصب کیے جاچکے ہیں۔

چینی حکام کا کہنا ہے بھارت وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا تھا تو اس دوران چينی فوج نے بھارتی فوج کے ایک دستے کو گرفتار بھی کیا جسے مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا۔

بھارتی آرمی چیف نے فوجی دستے کی گرفتاری کو بھارت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا تھا۔ چین نے کہا ہے کہ بھارت نے سکم اور لداخ میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی، اگر اس طرح کی خلاف ورزی دوبارہ کی گئی تو بھارت کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق لداخ، سکم اور وادی گولوان میں جہاں بھارتی فوج موجود تھی وہاں کا کنٹرول اب چینی فوج کے پاس ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو شروع ہوا تھا جس کے بعد چینی فوج نے بھارت کو ہر موڑ پر ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔

دوسری جانب بھارت کا نیپال کے ساتھ سرحدی تنازع بھی بڑھتا جا رہا ہے، نیپالی وزیراعظم نے نیا نقشہ جاری کیا جس میں کالا پانی، لمپیا دھورا اور لیپو لیکھ کے علاقے کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا ہے جبکہ بھارت نے رواں سال فروری میں ان تینوں علاقوں کو بھارت کا حصہ قرار دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں