The news is by your side.

Advertisement

شہریوں کے لیے کرونا ویکسین کب سے دستیاب ہوگی؟ چین نے تاریخ بتادی

بیجنگ: محکمہ صحت کے سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ چینی شہریوں کو کرونا ویکسین نومبر تک پہنچا دی جائے گی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا ویکسین پر قابو پانے اور روک تھام کے لیے دنیا کے مختلف ممالک اور ادویہ ساز کمپنیاں ویکسین کی تیاری پر کام کررہی ہیں۔

روس نے گزشتہ دنوں اپنے شہریوں کے لیے کرونا ویکسین مارکیٹ میں پہنچا دی ہے اب چین کے محکمہ صحت کے سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ چین میں ویکسین نومبر تک نہ صرف تیار ہوجائے گی بلکہ اسے عوام تک پہنچا دیا جائے گا۔

چائنا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے شعبے بائیو سیفٹی کی سربراہ وو گیوزین کا کہنا تھا کہ ’چار ویکسین کے ٹرائل آخری مرحلے میں ہیں جن میں سے ایک سردیوں تک تیار کرلی جائے گی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ویکسین کے حوالے سے ہموار طریقے سے پیشرفت ہورہی ہے، یہ بہت جلد ہوگا کہ ہمارے شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی دوا مارکیٹ سے باآسانی مل جائے گی‘۔

مزید پڑھیں: کروناویکسین: چین سے بڑی خوشخبری کا امکان

انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت چین میں چار میں سے تین ویکسین کے ٹرائلز جولائی سے جاری ہیں، جس کے تحت ہم نے رضاکاروں کا انتخاب کیا اور پھر انہیں یہ ویکسین دی گئی تاکہ متعارف کرائے جانے سے قبل اس کے نتائج دیکھ سکیں‘۔

اس کے قبل چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے سربراہ ژینگ زونگائی نے گزشتہ ماہ تصدیق کی تھی کہ ’جولائی سے ہم ویکسین کے ٹرائلز اور تجربات کررہے ہیں اور مشاہدہ کررہے ہیں کہ یہ کرونا کے خلاف مؤثر ہے یا پھر نہیں ہے‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ویکسینز کے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز ہموار طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور عام عوام کے لیے ویکسین نومبر یا دسمبر تک تیار ہوجائے گی۔

چین کے سرکاری چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ کے بینر تلے کام کرنے والی کمپنی سینو فارم اور سینوواک بائیو ٹیک اس وقت تین ویکسینز تیار کررہی ہیں جنہیں صرف ہنگامی حالات میں رضاکاروں کے استعمال کے لیے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ ایک اور ویکسین کے تجربات جون سے چینی فوج پر کیے جارہے ہیں۔

چین کی سرکاری کمپنی نے ویکسین کے تیسرے مرحلے کے ٹرائلز کے نتائج کا اعلان کیا اور بتایا تھا کہ اُن کا تجربہ خاصی حد تک کامیاب رہا کیونکہ دوا کوویڈ سے بچانے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس کی تیار کردہ ویکسین کی ملک میں بڑے پیمانے پر تقسیم شروع

سی این بی جی کے سیکرٹری زاؤ سونگ نے چائنا نیشنل ریڈیو کو بتایا کہ اب تک لاکھوں شہریوں کو کمپنی کی 2 تجرباتی ویکسینز دی جاچکی ہیں، جو اس وقت کلینکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں، اب تک کوئی مضر اثر سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی شخص وائرس سے متاثر ہوا‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک بار ویکسین لگنے کے بعد ایک فرد ممکنہ طور پر تین سال تک کرونا سے محفوظ رہ سکتا ہے،جانوروں پر ہونے والے تجربات کے نتائج اور دیگر تحقیقی نتائج سے بھی یہی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسین سے ملنے والا تحفظ ایک سے 3 سال تک برقرار رہ سکتا ہے’۔

Comments

یہ بھی پڑھیں