بیجنگ (11 مارچ 2026): چین نے ایران کا نام لیے بغیر خلیجی ملکوں پر حملوں کی مخالفت کر دی ہے۔
بدھ کے روز چین نے شہریوں پر ہونے والے ’’اندھا دھند‘‘ حملوں کی مذمت کی اور خلیجی خطے کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں پر عدم اتفاق کا اظہار کیا۔
بیجنگ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گوو جیاکون نے کہا کہ بیجنگ ’’خلیجی خطے کے ممالک پر حملوں سے متفق نہیں اور شہریوں یا غیر فوجی اہداف پر کیے جانے والے اندھا دھند حملوں کی مذمت کرتا ہے۔‘‘
ترجمان نے ایران کا نام لیے بغیر شہریوں کی آبادی اور انفرااسٹرکچر کو خطرے میں ڈالنے والے حملوں پر تنقید کی۔ گوو نے کہا ’’اس وقت سب سے فوری ترجیح یہ ہے کہ فوجی کارروائیاں فوراً بند کی جائیں اور تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے۔ اس تنازع کا حل یہی ہے کہ جتنا جلد ممکن ہو مذاکرات اور بات چیت کی طرف واپس آیا جائے اور امن کی بحالی کے لیے کوشش کی جائے۔‘‘
اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں
انھوں نے بین الاقوامی قانون کی ’’پابندی‘‘ کی طرف واپسی پر زور دیا اور کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کرنا ’’بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی‘‘ ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی نے کہا تھا کہ بیجنگ کو یقین ہے کہ موجودہ سنگین اور پیچیدہ صورت حال میں ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قومی اور سماجی استحکام برقرار رکھے گا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


