The news is by your side.

Advertisement

چین: 13 ہزار سے ویب سائٹس اور کروڑوں اکاؤنٹس معطل

بیجنگ: چین کی حکومت نے 13 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور کروڑوں اکاؤنٹس کو بند کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر کنٹرول مزید سخت کردیا۔

تفصیلات کے مطابق چین کی حکومت نے انٹرنیٹ سیکیورٹی کو بحال رکھنے اور اس پالیسی سے متعلق مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے گزشتہ 3 سال کے دوران 13 ہزار ویب سائٹس کو بند کیا جو ملکی قوانین کے برخلاف کام کررہی تھیں۔

حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ’انتظامی کنٹرول کے مقرر کردہ قواعد و ضوابط کے تحت 2015 سے اب تک ہزاروں ویب سائٹس کو عوامی حمایت کے بعد بند جبکہ کروڑوں کے حساب سے انٹرنیٹ اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے‘۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بلاک کیے جانے والے اکاؤنٹس ملک مخالف سرگرمیوں اور غیر ضروری طور پر عوام کو ورغلانے کا کام کررہے تھے، انٹرنیٹ پر نظر رکھنے والے ادارے نے ان اکاؤنٹس کی نشاندہی اور تصدیق بھی کی تھی‘۔

چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشنل پیپلزکانگریس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ویب سائٹس اور اکاؤنٹس بند کرنے کے بعد مثبت اثرات مرتب ہوئے کیونکہ ہمیں ان اقدامات پر سب کی حمایت حاصل ہے‘۔

واضح رہے کہ چین کے صدر رشی جنگ پنگ نے 2012 میں سرکاری عہدہ سنبھالنے کے بعد انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کی پالیسی کو انتہائی سخت کردیا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ غیر ملکی مداخلت کو روکنا تھا۔

دوسری جانب بین الاقوامی ادارے چینی حکومت کی اس پالیسی پر شدید تنقید کرتے آرہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ ’چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کے بنیادی حقوق سلب کیے جاتے ہیں‘۔

چین میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین فیس بک، ٹویٹر اور امریکی اخبار کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے اس کے علاوہ تمام غیر ملکی ویب سائٹس کو بھی عام صارفین کے لیے سرکاری سطح پر بند رکھا گیا ہے۔


 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں