The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس: چین کی صنعتی پیداوار میں ریکارڈ کمی

چین میں کاروبار ٹھپ ہونے کے بعد دنیا بھر کی فضائی آلودگی میں بھی کمی دیکھی گئی

بیجنگ: کرونا وائرس نے چین سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کرونا وائرس کے باعث چین کی صنعتی پیداوار میں 30 برسوں بعد ریکارڈ کمی دیکھی گئی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کے باعث چین کی صنعتی پیداوار میں گزشتہ 30 برسوں میں پہلی بار 13.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔ رواں سال جنوری اور فروری میں چین کی برآمدات 17.2 فیصد کم ہوئی ہیں جبکہ امریکا کے ساتھ تجارت سکڑ کر 40 فیصد تک رہ گئی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق 30 سال قبل جنوری 1990 میں چین کی صنعتی پیداوار میں 21.1 فیصد کمی آئی تھی۔

کرونا وائرس کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات ماہرین کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ چین نے حفاظتی تدابیر اپناتے ہوئے ملازمین کو فیکٹریوں اور دفاتر میں آنے سے روک دیا تھا جس کے باعث صنعتی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ خریداروں کو بھی باہر نکلنے کے بجائے گھروں تک محدود رہنے کا کہا گیا تھا۔

چین کے قومی ادارہ برائے اعداد و شمار کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے جس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب چین میں فیکٹریز اور صنعتیں بند کیے جانے کے بعد فضائی و ماحولیاتی آلودگی میں بھی واضح کمی دیکھی گئی، چین اس وقت دنیا میں کاربن اور دیگر زہریلی گیسوں کا اخراج کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔

ماہرین کے مطابق چین میں کاروبار معطل ہونے سے دنیا بھر کی فضائی آلودگی میں کمی دیکھی گئی ہے۔

دوسری جانب چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ملک میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 226 ہوچکی ہے۔ چین میں وائرس سے نمٹنے کے لیے بنائے تمام عارضی اسپتال بند کردیے گئے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں