The news is by your side.

Advertisement

چین کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور انقلابی قدم

بیجنگ: چین نے انتہائی سرد موسم میں بھی برق رفتاری سے چلنے والی نئی بلٹ ٹرین متعارف کرا دی، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس منفرد پراجیکٹ کی تکمیل پر دنیا حیران رہ گئی۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ‘سی آر 400 اے ایف۔ جی’ نامی یہ بلٹ ٹرین منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ(درجہ حرارت) میں بھی 350 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرسکتی ہے۔ چین میں اسے تیاری کے بعد حالیہ دنوں متعارف کرایا گیا ہے تاہم اب تک اس کے آپریشن کے اغاز کی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ بلٹ ٹرین چین کے دارالحکومت بیجنگ سے شمال مشرقی حصوں کی جانب سفر کرے گی جس میں ہربن(چین کا سب سے سرد ترین شہر) بھی شامل ہے، جہاں کا ہر سال ہونے والا آئس فیسٹیول بہت مشہور ہے۔ حکام نے فی الحال اس ٹرین کے آپریشنز کے آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

The brake system of China's newest bullet train was designed to withstand extremely cold temperatures.

سی آر 400۔اے ایف جی کی تکمیل کے دوران لگائے گئے پرزے جیبولٹس کرومیم مولیبیڈنیم ایلوے سے تیار کردہ ہیں، یہ میٹریل بہت کم درجہ حرارت میں بھی کام کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی ٹرین میں دیگر جدید آلات نصب کیے گئے ہیں جو موسم کے حساب سے اپنی ذمےداریاں نبھائیں گے۔

ٹرین میں سیلیکون سیلنگ پٹیاں نصب ہیں جو برف کو ٹرین کی باڈی میں داخل ہونے سے روکے گی، جبکہ ٹمپریچر ریزیزٹنٹ بریک کنٹرول ڈیوائسز اور اسٹین لیس اسٹیل پائپ وغیرہ بھی قابل ذکر ہیں، اس منصوبے کی تکمیل کے دوران ماہرین نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ ریل توانائی کا کم سے کم استعمال کرے۔

منصوبے کو عملی جامع پہنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہربن وہ شہر ہے جہاں اگر کوئی ٹرین کھڑی ہو تو اس کا بریک سسٹم منجمد ہوسکتا ہے لیکن اس بلٹ ٹرین میں ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں