site
stats
عالمی خبریں

چین میں کنواروں کا گاؤں، خواتین کا آنے سے انکار

بیجنگ : چین میں لاویا نامی ایک گاؤں کنواروں کے گاؤں کے نام سے مشہور ہے۔ سال 2014 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں کی کل 1600 کی آبادی میں 30 سے 55 سال کی عمر کے 112 کنوارے مرد تھے۔ جو انتہائی غیر معمولی بات ہے۔

اس گاؤں کے ایک رہائشی ژیانگ جیگن خود ایسے 100 مردوں کو جانتے ہیں جو اب تک غیر شادی شدہ ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ژیانگ کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے لیے بیوی تلاش نہیں کر سکا۔ خواتین کام کے لیے کسی دوسرے علاقے میں چلی گئیں تو مجھے شادی کے لیے کوئی کیسے ملتا۔‘

Cheen-Post-01

ژیانگ جیگن مشرقی چین لاویا کے نامی گاؤں میں رہتے ہیں۔ اس گاؤں تک جانے والا تیز ترین راستہ ایک گھنٹے کی سست رفتار مسافت پر محیط ہے۔

انہوں نے اپنے گاؤں کی سڑک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں آمد و رفت بہت مشکل ہے۔ ہم بارشوں میں دریا کے پار نہیں جا سکتے۔ عورتیں یہاں بسنا نہیں چاہتیں، ژیانگ جیگن کا کہنا تھا یہ علاقہ کٹا ہوا ہے اور یہاں آمدورفت بہت مشکل ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنے ان کے گھر کے باہر مرغیوں کا دڑبا اور مکئی کے کھیت دکھائی دے رہے ہیں۔

تینتالیس سالہ غیر شادی شدہ ژیانگ کو چینی میں ’خالی شاخ‘ کہا جاتا ہے جس کے معنی تنہا، غیر شادی شدہ یا کنوارے کے ہیں۔ ان کا گاؤں دور دراز کے علاقے میں ہے۔

Cheen-Post-02

چین میں مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہے۔ یہاں اگر 115 لڑکوں کے مقابلے میں صرف 100 لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں کی ثقافت میں لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔

1980 کی دہائی کے بعد کمیونسٹ پارٹی کی ایک بچے والی پالیسی نے اسقاطِ حمل کو بڑھاوا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اکیسویں صدی میں مردوں کی شادی کے مواقع کم ہو گئے۔ والدین آج بھی یہاں بچوں کے رشتے کروانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ دیہاتوں میں رشتہ کروانے والے بھی مقبول ہیں۔

ژیانگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی ان سے رابطہ کیا تھا ’کچھ خواتین یہاں آئی تھیں لیکن وہ لوٹ گئیں کیونکہ انہیں یہاں آنے کا راستہ پسند نہیں آیا۔

Cheen-Post-03

کیا انہیں کسی سے محبت ہوئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا ’ان کا ایک خاتون سے تعلق تو بنا تھا لیکن بات نہیں بن پائی۔ اس کو شکایت تھی کہ میرا گاؤں اس کے لیے اچھا نہیں ہے خاص طور پر یہاں کی سڑکیں آمدورفت کے قابل نہیں۔

ژیانگ نے بتایا کہ یہاں گاؤں کی خواتین شہروں میں کام کی تلاش میں چلی گئیں اور اکثر وہیں شادی بھی کر لیتی ہیں۔ خواتین کی طرح مرد بھی باہر جا کر کام کرتے ہیں لیکن وہ وہاں شادی نہیں کرتے۔ کئی مرد یہیں رک گئے کیونکہ انہیں اپنے عمر رسیدہ والدین کی دیکھ بھال کرنا تھی۔ ژیانگ جیگن نے بھی یہیں رک کر اپنے چچا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔

ژیانگ جیگن کا کہنا تھا ’اگر میں بھی چلا گیا تو انہیں کھانا کون دے گا۔ اور یہ نرسنگ ہوم بھی نہیں جا سکتے۔‘ چینی نوجوانوں میں اپنے بزرگوں اور پرورش کرنے والوں کے لیے یہ فرض کا یہ احساس چینی معاشرے کا اہم حصہ ہے۔

لاویا چونکہ دور دراز علاقہ ہے اس لیے یہاں بنایا گیا ایک نیا گھر بھی کسی عورت کو واپس آ کر ژیانگ جیگن کی بیوی بننے پر رضا مند نہیں کر سکا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top