The news is by your side.

چین کا ایک بار پھر امریکا کو سخت انتباہ

چین کی وزارت خارجہ نے ایک بار پر امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ تائیوان کا استعمال کرکے چین پر قابو پانے کی اپنی کوششوں کو بند کردے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے ایک نیوز بریفنگ میں امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ تائیوان کا استعمال کرکے چین پر قابو پانے کی اپنی کوششوں کو ترک کردے کیونکہ چین اس کو اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو کبھی بھی بے دریغ روندنے اور مجروح کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

وانگ وین بن نے واضح کیا کہ جب بھی امریکا چین کی خودمختاری کو مجروح کرنے اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والی سنگین اشتعال انگیزی کرے گا تو چین عزم کے ساتھ جوابی کارروائی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا چین کے علاقے تائیوان کا دورہ ایک بڑی سیاسی اشتعال انگیزی ہے جو امریکا اور تائیوان کے درمیان تبادلوں کو بہتر بنا رہا ہے۔ پیلوسی کے دورے سے چین اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے حوالے سے مشترکہ اعلامیے بارے امریکی فریق کی جانب سے متعلقہ وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک چین کے اصول کو بین الاقوامی برادری نے بڑے پیمانے پر قبول کیا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 میں اس کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے بین الاقوامی قانون کا اصول جو کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج ہے۔

وانگ نے کہا کہ چین نہیں امریکا وعدوں سے مکر گیا ہے۔ پیلوسی کے دورے کے بارے میں چین کی ناراضگی اور انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے امریکا نے غلط اقدام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا یہ امریکا ہے جس نے چین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، اس نے ‘تائیوان کی آزادی’ کی علیحدگی پسند سرگرمیوں میں تعاون کیا اور ان کی حمایت کی۔ وانگ نے کہا کہ امریکا چین پر جمود کو تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ون چائنا اصول کو دھندلا، کھوکھلا کرنے اور مسخ کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں