منیلا(21 جولائی 2026): ساؤتھ چائنا سی کے متنازع پانیوں میں چین اور فلپائن کے درمیان تناؤ شدید اختیار کر گیا، جہاں گزشتہ روز دونوں ممالک کے بحری اہلکاروں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ میں فوجی اہلکار آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیکنڈ تھامس شول کے قریب پیش آنے والے اس واقعے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر پرتشدد اقدامات کے الزامات عائد کیے ہیں۔
فلپائنی حکام کے مطابق چینی کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے لکڑی کے ڈنڈوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں فلپائنی بحریہ کا ایک اہلکار سر پر چوٹ لگنے سے شدید زخمی ہو گیا جبکہ ایک ربڑ بوٹ کو بھی نقصان پہنچا۔
فلپائن کی مسلح افواج نے موقف اختیار کیا کہ ان کے گراؤنڈ کیے گئے جنگی جہاز کے قریب چینی کوسٹ گارڈ کے 8 اہلکار کشتی میں سوار ہو کر آئے اور ویڈیوز و تصاویر بنانے لگے۔ جب فلپائنی بحریہ کی 2 کشتیوں نے انہیں دور ہٹانے کی کوشش کی تو چینی اہلکاروں نے شدید جارحیت کا مظاہرہ کیا۔
AFP RELEASES VIDEO OF CHINA COAST GUARD HITTING PH NAVY PERSONNEL
WATCH: The Armed Forces of the Philippines released video showing China Coast Guard personnel aboard a rigid hull inflatable boat hitting Philippine Navy personnel on a rubber boat with wooden batons near Ayungin… pic.twitter.com/sgVuiVtVZR
— Tristan Nodalo (@TristanNodalo) July 20, 2026
دوسری جانب چین نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اہلکار معمول کے بحری گشت پر تھے کہ اسی اثنا میں فلپائن کی 2 کشتیاں تیزی سے ان کی طرف آئیں۔ بارہا وارننگز کے باوجود فلپائنی کشتیوں کے نہ رکنے پر چینی فوجیوں کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے ضروری اور قانونی اقدامات کرنا پڑے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ساؤتھ چائنا سی کے ثالثی فیصلے کی دسویں سالگرہ قریب ہے اور مانیلا میں آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں جس میں امریکا اور چین کے اعلیٰ سفارت کار بھی شرکت کر رہے ہیں۔


