بیجنگ: چین نے رائفل چلانے والے ڈرون کا کامیاب تجربہ کیا ہے، معروف ٹیک کمپنیوں میں سے ایک، ووہان گائیڈ انفراریڈ، نے ہدف کوبے مثال درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے رائفل بردار ڈرون کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق چینی کمپنیاں حالیہ برسوں میں ڈرون کی ترقی میں سب سے نمایاں رہی ہیں، بہت سے سویلین ماڈلز کی عالمی مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے۔
جرنل آف گن لانچ اینڈ کنٹرول کے دسمبر کے شمارے میں بتایا گیا تھا کہ رائفل بردار ڈرون کو چینی فوج کی آرمی سپیشل آپریشنز اکیڈمی کے تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔
اس ڈرون نے تجربے کے دوران سطح زمین سے دس میٹر کی بلندی سے معیاری رائفل سے 100 میٹر (328 فٹ) دور انسانی سائز کے ہدف پر 20 سنگل گولیاں فائر کیں اور اس طرح 100 فیصد ہٹ ریٹ حاصل کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 20 میں سے دس گولیاں ہدف پر 11 سینٹی میٹر کے دائرے میں لگیں۔ اسی طرح کے ماڈلز کے برعکس، نئے ڈرون کو کسٹم بلٹ یا تبدیل شدہ آتشیں اسلحہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ چینی فوج کے زیر استعمال باقاعدہ اسالٹ رائفل کا استعمال کرتا ہے۔
مزید برآں، چینی انجینئرز نے خصوصی سافٹ ویئر بھی تیار کرلیا ہے جو فاصلہ، ہوا کے تخمینے، اور دیگر پیرامیٹرز کی بنیاد پر فائرنگ کے زاویے کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔ یہ سب کمپیوٹر سمولیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
چین کے ‘دیوہیکل ڈرون’ کے کامیاب تجربے نے دفاعی منظرنامے میں تہلکہ مچادیا
روسی ادارے ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (AVIC) نے گزشتہ ماہ اپنے ہیوی ویٹ جیٹ سے چلنے والے جیوٹیان (ہائی اسکائی) ڈرون کی پہلی پرواز کا اعلان کیا، جو 100 چھوٹے AI گائیڈڈ کامیکازی ڈرون کو لے جا کر کسی ہدف کے پاس چھوڑ سکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


