اگر امریکی اقدام سے چینی مفاد کو خطرہ ہوا تو خاموش نہیں بیٹھیں گے، چین
The news is by your side.

Advertisement

اگر امریکی اقدام سے چینی مفاد کو خطرہ ہوا تو خاموش نہیں بیٹھیں گے، چین

بیجنگ : چین نے امریکی صدر کی جانب سے اسٹیل اور ایلیومینم کی درآمدات پر لگائے گئے اضافی ٹیکسوں پر جوابی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی اقدام سے چینی مفاد کو خطرہ ہوا تو خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق چینی حکومت نے امریکہ کو خبردار کیا ہےکہ چین کسی تجارتی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا تاہم اسٹیل اور ایلومینم پر لگائی گئی زائد ڈیوٹیز کا جواب دیا جائے گا۔

امریکہ میں تعینات چینی سفیر کا کہنا ہےکہ اگر امریکی اقدام سے چینی مفاد کو خطر ہ ہوا تو چینی مناسب جوابی کارروائی کر ے گا۔

اس قبل نیشنل پیپلز کانگریس کے ترجمان ژانگ ژے سوئی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا چین امریکا کے ساتھ کوئی تجارتی جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر امریکا کے اقدامات سے چین کے تجارتی مفادات کو نقصان ہوگا، تو چین بھی خاموشی سے بیٹھا نہیں رہے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اسٹیل پر پچیس فیصد جبکہ درآمدی ایلومینم پر دس فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہا کہ تجارتی جنگیں اچھی چیز ہیں، امریکہ کیلئے تجارتی جنگ جیتنا آسان ہوگا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس اضافے کا اطلاق امریکی اتحادیوں کینیڈا اور یورپی ممالک پر بھی ہوگا۔


مزید پڑھیں : ٹرمپ کا تجارتی جنگ کا اعلان، درآمد شدہ اسٹیل پر ٹیکسز عائد


ٹرمپ انتظامیہ نے ان نئے متنازعہ محصولات کا اعلان گزشتہ جمعرات کو کیا تھا اور ان پر چین کے علاوہ کئی دیگر ممالک کی طرف سے بھی شدید تنقید کی گئی تھی۔

یورپی یونین نے جوابا ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدات پر پچیس فیصد ڈیوٹیز کے اطلاق پر غور شروع کردیا جبکہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام عالمی تجارت کیلئے نقصان دہ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیاں نئی اقتصادی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں، یہ اقدام دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ کیلئے بھی نقصان دہ ہوں گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اسٹیل اور الومینیم پردرآمدی ڈیوٹی کے نفاذ سے امریکہ میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا نہیں کیے جا سکیں گے، اس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں