بیجنگ (12 جنوری 2026): چینی ٹیکنالوجی کا ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے، چین کے مقامی طور پر تیار کردہ ’’تیان ما-1000‘‘ بغیر پائلٹ کارگو طیارے کی پہلی پرواز کامیابی سے مکمل ہو گئی۔
شنہوا نیوز کے مطابق چین کے خود تیار کردہ بغیر پائلٹ ٹرانسپورٹ طیارے ’’تیان ما-1000‘‘ نے اتوار کے روز اپنی پہلی آزمائشی پرواز کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی۔
چائنا نارتھ انڈسٹریز گروپ کارپوریشن کے مطابق یہ چین کا پہلا بغیر پائلٹ طیارہ ہے جو بلند سطح اور پیچیدہ جغرافیائی خطوں میں پرواز کے قابل ہے، انتہائی مختصر فاصلے میں ٹیک آف اور لینڈنگ کر سکتا ہے، اور کارگو ٹرانسپورٹ اور فضائی ترسیل (ایئر ڈراپ) کے درمیان تیزی سے تبدیلی کی صلاحیت کا بھی حامل ہے۔
زیادہ سے زیادہ 1,800 کلومیٹر کی پروازی حد کے ساتھ یہ طیارہ تیز رفتار ترسیل کے لیے ’’ایئر ایکسپریس لائنز‘‘ قائم کر سکتا ہے۔ اس میں اسمارٹ روٹ پلاننگ اور رکاوٹوں سے بچاؤ کا نظام نصب ہے، جو پہاڑوں اور عمارتوں جیسی رکاوٹوں کو خودکار طور پر شناخت کر کے ان کے گرد محفوظ انداز میں پرواز کو یقینی بناتا ہے، حتیٰ کہ نامعلوم فضائی حدود میں بھی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس طیارے میں ایک ماڈیولر کارگو کیبن موجود ہے، جسے مختلف مشنز کے مطابق تیزی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی پرواز کی زیادہ سے زیادہ بلندی 8,000 میٹر ہے، جب کہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے درکار رن وے کی لمبائی 200 میٹر سے کم ہے۔ لینڈنگ کے مقامات کے حوالے سے کم تقاضوں کے باعث یہ گھاس کے میدانوں اور دبائی ہوئی کچی سڑکوں جیسی بغیر پختہ سطحوں پر بھی آپریٹ کر سکتا ہے۔
یہ طیارہ اپنے خودکار لوڈنگ، اَن لوڈنگ نظام کی مدد سے محض پانچ منٹ کے اندر ایک ٹن کارگو کو سنبھال سکتا ہے، مزید برآں، اس میں ایک آپٹیکل گائیڈنس لینڈنگ سسٹم موجود ہے، جو دھند میں نہایت درست خودکار لینڈنگ کو ممکن بنا دیتا ہے۔


