جمعہ, فروری 13, 2026
اشتہار

چین نے پھر حیران کر دیا، چاند کے وقت کے تعین کے لیے دنیا کی پہلی گھڑی تیار

اشتہار

حیرت انگیز

بیجنگ (14 جنوری 2026): چین نے چاند کے لیے دنیا کا پہلا ٹائم کیپنگ سافٹ ویئر متعارف کرا دیا ہے، کیوں کہ چاند پر گھڑیاں زمین کے مقابلے میں تیز چلتی ہیں۔

اس کا مقصد چاند پر نیویگیشن اور لینڈنگ کے عمل کو زیادہ درست بنانا ہے، چاند پر گھڑیاں زمین کے مقابلے میں تھوڑی تیز چلتی ہیں کیوں کہ وہاں کششِ ثقل کم ہے، جس کی وجہ سے روزانہ تقریباً 56 ملیئنتھ سیکنڈ کا فرق پڑتا ہے۔

چینی محققین کا کہنا ہے کہ چاند پر مستقبل کے مشنز اور جی پی ایس کے لیے یہ سافٹ ویئر نہایت کارآمد ثابت ہوگا۔ اگرچہ مذکورہ فرق بہت چھوٹا ہے، لیکن وقت کے ساتھ جمع ہو کر زمین کے وقت کو چاند کے لیے غیر قابل اعتماد بنا دیتا ہے، جس سے نیویگیشن اور لینڈنگ کے عمل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

لونر ٹائم ایفیمیرس (Lunar Time Ephemeris) نامی سافٹ ویئر بغیر کسی پیچیدہ حساب کے زمین اور چاند کے وقت کے فرق کو آسانی سے معلوم کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب چاند تک رسائی کے لیے عالمی دوڑ تیز ہوتی جا رہی ہے، چین کا متعارف کردہ یہ ایک ایسا آلہ ہے جو عین درست نیویگیشن اور لینڈنگ میں مدد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اے آئی کے پیچھے ایٹمی توانائی؟ میٹا کے معاہدوں کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی


ماہرین کے مطابق چاند پر کششِ ثقل زمین کے مقابلے میں کم ہونے کی وجہ سے وہاں گھڑیاں تیز چلتی ہیں، تقریباً روزانہ 56 ملین واں حصہ سیکنڈ زیادہ۔ یہ اثر البرٹ آئن اسٹائن کے نظریۂ عمومی اضافیت کے مطابق ہے۔ اگرچہ یہ فرق نہایت معمولی ہے، لیکن وقت کے ساتھ جمع ہو جاتا ہے، جس کے باعث چاند پر کام کے لیے زمینی وقت بتدریج غیر قابلِ اعتماد ہوتا جاتا ہے۔


آئن اسٹائن کا نظریۂ عمومی اضافیت اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ چاند کی سطح پر موجود ایک گھڑی، زمین پر موجود اسی گھڑی کے مقابلے میں، زمین کے 24 گھنٹے کے دن کے دوران تقریباً 58 مائیکرو سیکنڈ آگے نکل جاتی ہے۔ یہ فرق بہت زیادہ نہیں ہے، اور اس نے اپالو مشنز پر کوئی نمایاں اثر نہیں ڈالا، کیوں کہ ان میں سے سب سے طویل مشن، اپالو 17 بھی، دو ہفتوں سے کم مدت پر مشتمل تھا۔

چین نے بجلی بنانے کا نیا طریقہ ایجاد کرلیا

اس مسئلے کے حل کے لیے نانجنگ میں واقع پرپل ماؤنٹین آبزرویٹری کی ایک ٹیم نے ایک ایسا ماڈل تیار کیا ہے جو چاند کی کمزور کششِ ثقل اور خلا میں اس کی حرکت دونوں کو مدنظر رکھتا ہے۔ اس ماڈل کی مدد سے چاند پر پیش آنے والے واقعات کو زمین پر استعمال ہونے والی گھڑیوں کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔


محققین کے مطابق ان کا یہ طریقہ ایک ہزار سال کے عرصے میں بھی چند درجن نینو سیکنڈ کے اندر درست رہتا ہے۔ یہ بات دسمبر کے شمارے میں شائع ہونے والے سائنسی جریدے آسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس میں شائع ایک مقالے میں بتائی گئی ہے۔


محققین نے اس ماڈل کو استعمال کے لیے بالکل تیار ایک سافٹ ویئر کی صورت میں بھی پیش کیا ہے، جس کی بدولت صارفین پیچیدہ حسابات پر انحصار کرنے کی بجائے ایک ہی مرحلے میں چاند اور زمین کے وقت کا موازنہ کر سکتے ہیں۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ جیسے جیسے چاند کے مشن بڑھتے جائیں، چاند پر وقت کے تعین کو عملی بنایا جا سکے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ فلکیات اور خلائی تاریخ دان جوناتھن میک ڈاؤل نے کہا کہ چاند پر وقت کا تعین اب محض ایک نظری مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک حقیقی انجینئرنگ ضرورت بنتا جا رہا ہے، جسے ماضی کی طرح ہر مشن کے لیے الگ الگ بنیادوں پر زمینی وقت استعمال کر کے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، مائیکرو سیکنڈ جتنا معمولی فرق بھی نیویگیشن سسٹمز میں اہمیت اختیار کر سکتا ہے اور ایک منٹ جیسے مختصر وقت میں کیے جانے والے حسابات کو متاثر کر سکتا ہے۔

میک ڈاؤل نے کہا کہ اگرچہ امریکا میں بھی اس نوعیت کا کام جاری ہے، لیکن انھیں کسی اور ایسے آلے کا علم نہیں جو اس وقت عملی طور پر دستیاب ہو۔ ان کے بقول ’’اس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ چین چاند کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور اپنے چاند سے متعلق تحقیقی کام کو کھلے طور پر شیئر بھی کر رہا ہے۔‘‘

ماضی میں اس حقیقت کی زیادہ اہمیت نہیں تھی کہ چاند اور زمین پر گھڑیاں مختلف رفتار سے چلتی ہیں، کیونکہ چاند کے مشن بہت کم ہوتے تھے۔ انجینئرز عام طور پر زمینی وقت ہی استعمال کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر ہر مشن کے لیے الگ سے درستگی کر لیتے تھے۔ تاہم یہ طریقہ اب برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے جیسے زیادہ خلائی جہاز اور بالآخر انسان ایک ہی وقت میں چاند پر اور اس کے گرد کام کریں گے، وقتی اور عارضی حل تیزی سے ناقابلِ عمل ہو جائیں گے۔

اسی مستقبل کی تیاری کے لیے انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین نے 2024 میں ایک جامع فریم ورک منظور کیا، جس میں چاند کے لیے الگ وقت کے حوالہ نظام کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی فریم ورک کی بنیاد پر چینی ٹیم نے اس تصور کو ایک ایسے عملی حل میں ڈھالنے کی کوشش کی جسے انجینئر واقعی استعمال کر سکیں۔ انہوں نے ابتدا میں چاند کی حرکت سے متعلق نہایت درست ڈیٹا استعمال کیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وقت کے ساتھ چاند اور زمین کے درمیان وقت کا فرق کیسے بدلتا ہے۔

بعد ازاں ان تمام حسابات کو ایک سافٹ ویئر پیکج میں سمو دیا گیا، جو اس عمل کو خودکار بناتا ہے اور صارفین کو پیچیدہ حساب کتاب کیے بغیر براہِ راست چاند اور زمین کے وقت کا موازنہ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔ اس ٹیم نے اس سافٹ ویئر کا نام LTE440 رکھا، جو Lunar Time Ephemeris کا مخفف ہے۔ محققین نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک ابتدائی قدم ہے، اور مستقبل میں حقیقی وقت کی نیویگیشن اور چاند پر گھڑیوں کے نیٹ ورک کی معاونت کے لیے اس میں مزید توسیع درکار ہوگی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں